کوالالمپور:پاکستان اور ملائیشیا نے دفاع، زراعت اور نئی ٹیکنالوجیز سمیت مختلف شعبوں میں اشتراکِ عمل کو مزید فروغ دینے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
یہ ا تفاق رائے پُترا جایا میں وزیراعظم شہباز شریف اور ملائیشیا کے وزیراعظم انور ابراہیم کے درمیان ملاقات میں ہوا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے بعد میں ایک مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ملائیشیا کے اپنے ہم منصب کے ساتھ اپنی ملاقات کو مفید قرار دیا اور کہا کہ بات چیت میں تمام اہم امور پر روشی ڈالی گئی۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان ٹیکنالوجی، آئی ٹی، مصنوعی ذہانت اور اقتصادی ترقی کے دیگر شعبوں میں ملائیشیا کی مہارت سے استفادہ کر سکتا ہے۔
انہوں نے ملائیشیا کے ساتھ اشتراکِ عمل کی پاکستان کی خواہش کا اظہار کیا جس کے تحت نہ صرف ملائیشیا کی مہارت سے استفادہ کیا جائے گا بلکہ مشترکہ اور باہمی مفاد کے منصوبوں پر عملدرآمد بھی ہو گا۔
وزیراعظم نے ملائیشیا کے وزیراعظم کی جانب سے پاکستان سے بیس کروڑ ڈالر مالیت کا گوشت درآمد کرنے کے اعلان کا خیرمقدم کیا۔
اس موقع پر ملائیشیا کے وزیر اعظم نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مسلسل بڑھتا ہوا اقتصادی تعاون ہمیشہ انتہائی اہم رہا ہے۔
ملائیشیا نے پاکستانی چاول کی درآمد میں اضافہ کیا ہے جبکہ انہوں نے پاکستان سے گائے کے گوشت کی درآمد میں بھی سہولت فراہم کرنے کی یقین دہانی کرائی ۔ انہوں نے نئی ٹیکنالوجیز میں تعاون کے امکانات پر بھی روشنی ڈالی۔
ملائیشیا کے وزیراعظم نے فلسطین کے بارے میں پاکستان کے موقف کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ملائیشیا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن اقدام کے معترف ہیں۔
اس سے قبل دونوں فریقوں نے اعلیٰ تعلیم، سیاحت، حلال سرٹیفیکیشن، انسداد بدعنوانی کی کوششوں اور چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کے شعبوں میں مفاہمتی یادداشتوں کا تبادلہ کیا۔