غزہ: جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فوج کی بمباری سے مزید 6 فلسطینی شہید اور متعدد زخمی ہوگئے۔صیہونی فوج حماس کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کے بہانے روزانہ شہری آبادی پر بمباری کر رہی ہے۔
نصیرات مہاجرین کیمپ کے قریب ڈرون حملے میں ایک 9 سالہ بچہ شہید اور کئی فلسطینی زخمی ہوئے۔غزہ شہر میں 83 فیصد عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن چکی ہیں، جبکہ اسرائیلی رکاوٹوں کے باعث فلسطینیوں کو خوراک، پانی اور پناہ کے لیے شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ابتک صرف چند امدادی ٹرکوں کو ہی غزہ میں داخلے کی اجازت ملی ہے، جس سے بنیادی ضروریات پوری ہونا ممکن نہیں۔امن معاہدے کے بعد سے اب تک 93 فلسطینی شہید اور 320 زخمی ہوچکے ہیں۔
فلسطینی محکمۂ صحت کے مطابق اسرائیل کی جانب سے امن معاہدے کی خلاف ورزیوں کے بعد غزہ میں شہداء کی مجموعی تعداد 68 ہزار 519 اور زخمیوں کی تعداد ایک لاکھ 70 ہزار 382 ہو گئی ہے۔اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ غزہ میں 15 لاکھ افراد کو ہنگامی امداد کی ضرورت ہے، جبکہ تباہ شدہ گھروں کو لوٹنے والے فلسطینی صرف ملبے کے ڈھیر دیکھ رہے ہیں اور خوراک و پانی جیسی بنیادی ضرورتوں کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہے ہیں۔
دوسری جانب مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں غیر قانونی اسرائیلی آبادکاروں نے فلسطینی گھروں، کمیونٹیوں اور زرعی زمینوں پر حملے کیے ہیں۔