اسلام آباد:سینیٹرشیری رحمان نےکہا ہےکہ ماحولیاتی آلودگی میں پاکستان کا حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے، لیکن اس کے باوجود پاکستان ان دس ممالک میں شامل ہے جو ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔
اسلام آباد میں پاکستان ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے زیرِ اہتمام ماحولیاتی تبدیلی کے موضوع پر منعقدہ مباحثےسےخطاب کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ ملک میں بدلتے موسمی حالات کے باعث سیلاب، ہیٹ ویو اور کلاوڈ برسٹ جیسے شدید موسمی واقعات رونما ہو رہے ہیں، جن سے جانی و مالی نقصان میں اضافہ ہوا ہے۔
شیری رحمان کا کہنا تھا کہ عالمی درجہ حرارت میں اضافے کے باعث پاکستان کے گلیشیرز تیزی سے پگھل رہے ہیں، جس سے سیلاب اور خشک سالی کے خطرات بڑھ گئے ہیں۔سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ پاکستان “کاپ کانفرنس 2025” میں دنیا کو اس سنگین مسئلے سے آگاہ کرے گا اور عالمی برادری پر زور دے گا کہ وہ اپنے وعدے پورے کرے اور ترقی پذیر ممالک کی مدد کے لیے مالی امداد فراہم کرے۔
انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لیے حکومت کے ساتھ ساتھ نجی شعبے، اداروں اور عوام کو بھی اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے چیئرمین پی آر سی ایس فرزانہ نائیک نے کہا کہ حالیہ بارشوں اور سیلابوں سے شہری علاقوں میں اربن فلڈنگ کے خطرات میں اضافہ ہوا ہے جبکہ سیلاب کے بعد پیدا ہونے والی وبائی امراض اور صاف پانی کی قلت نے عوامی صحت کے مسائل کو مزید بڑھا دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو حالیہ سالوں میں موسمیاتی آفات کے باعث اربوں ڈالرز کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا ہے۔عالمی اداروں کو پاکستان کے ساتھ تعاون بڑھانا ہوگا تاکہ ماحولیات کے تحفظ اور پائیدار مستقبل کے لیے مشترکہ اقدامات کیے جا سکیں۔