تہران: ایران کے دارالحکومت تہران میں یوم القدس کے موقع پر ہونے والے مظاہروں کے دوران مرکزی چوک میں ایک زوردار دھماکا ہوا تاہم شرکاء بے خوف ہو کر نعرے لگاتے ہوئے مسلسل آگے بڑھتے رہے اور ریلی جاری رکھی۔
ایران میں یوم القدس کے موقع پر فلسطینی عوام سے اظہارِ یکجہتی کے لیے ریلیاں اور مظاہرے جاری ہیں، تہران سمیت کئی شہروں میں بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر موجود ہیں۔
اسی دوران تہران کے مرکز میں واقع فردوسی اسکوائر اور انقلاب اسٹریٹ کے قریبی علاقوں میں شدید دھماکوں کی آواز سنی گئی، جہاں تہران یونیورسٹی کے قریب ریلی کے شرکاء کی بڑی تعداد موجود تھی۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے کی جانب سے شیئر کی گئی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ریلی کے دوران فضائی حملے کے بعد دھوئیں کے بادل اٹھتے دکھائی دے رہے ہیں جبکہ مظاہرین بے خوف ہو کر نعرے لگاتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب کچھ دیر قبل اسرائیل کی جانب سے لوگوں کو علاقے سے دور رہنے کی وارننگ دی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ وہاں ممکنہ حملہ کیا جا سکتا ہے۔
ابتدائی اطلاعات کے مطابق فوری طور پر کسی جانی نقصان یا بڑے پیمانے پر نقصان کی خبر سامنے نہیں آئی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق تہران میں یوم القدس کے موقع پر نکالی جانے والی ریلی میں ایران کے قومی سلامتی ادارے کے سربراہ علی لاریجانی نے بھی شرکت کی۔
انہوں نے کہا کہ یہ حملے خوف اور مایوسی کے باعث کیے جا رہے ہیں، جو واقعی طاقتور ہو وہ مظاہرین پر بمباری نہیں کرتا، یہ واضح کرتا ہے کہ دشمن ناکام ہو چکا ہے۔
یوم القدس کے موقع پر ہونے والے اس مارچ میں دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک ہوئے۔ سرکاری ٹی وی کی نشر کردہ تصاویر میں قومی پولیس کے سربراہ احمد رضا رادان کو بھی ریلی میں موجود دیکھا گیا۔
سوشل میڈیا اور مقامی میڈیا پر جاری دیگر ویڈیوز میں بھی ریلی کے شرکاء کو ایرانی اور فلسطینی پرچم لہراتے، فلسطین کے حق میں اور امریکا و اسرائیل مخالف نعرے لگاتے دیکھا جا سکتا ہے۔
خیال رہے کہ ایران سمیت دیگر مسلم ممالک میں ہر سال ماہ رمضان کے آخری جمعہ کو یوم القدس منایا جاتا ہے، ان مظاہروں میں اسرائیل مظالم کی مذمت، فلسطینی عوام سے اظہار یکجہتی اور اور بیت المقدس کی آزادی کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔