کندھے کا درد درمیانی اور بڑی عمر کے افراد میں ایک عام علامت ہے، یہ درد عموماً کندھے کے جوڑ کو حرکت دینے والے پٹھوں کے ریشے میں خرابیوں کی وجہ سے ہوتا ہے، جو بازو کو دھڑ کے ساتھ جوڑتے ہیں۔
ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ جب ریشے میں مسائل موجود ہوں تب بھی بہت سے لوگوں کو کندھے میں کوئی درد محسوس نہیں ہوتا، جس کی وجہ سے اس بات پر بحث جاری ہے کہ کیا امیجنگ میں نظر آنے والی تشوز کی خرابیاں واقعی درد کی اصل وجہ ہیں یا نہیں۔
ایک حالیہ تحقیق جو طبی جریدے جے اے ایم اے انٹرنل میڈیسن میں شائع ہوئی، اس میں صحت مند افراد میں کندھے کے جوڑ کو حرکت دینے والے پٹھوں کے ریشوں کی خرابیوں کا جائزہ لیا گیا۔
اس تحقیق میں فن لینڈ کے 40 سال یا اس سے زیادہ عمر کے 602 صحت مند افراد شامل تھے۔ کندھے کے درد کی موجودگی کا جائزہ لینے کے بعد تمام شرکاء کے دونوں کندھوں کے جوڑوں کا ہائی ریزولوشن ایم آر آئی کیا گیا تاکہ کسی بھی خرابی کا پتہ چلایا جا سکے۔
نتائج سے معلوم ہوا کہ 98.7 فیصد (595 افراد) میں جوڑ کو حرکت دینے والے پٹھوں کے ریشوں میں خرابی پائی گئی۔ ان میں سے 25 فیصد میں ریشوں سوجن، جبکہ 62 فیصد میں یہ جزوی طور پھٹے ہوئے تھے اور 11 فیصد میں مکمل طور پر پھٹ چکے تھے۔ عمر کے ساتھ ان ریشوں میں خرابیوں میں اضافہ ہوتا اور ان ریشے یا ٹشوز کا پھٹنا سب سے عام مسئلہ ہوتا ہے۔
جن افراد کو کندھے میں درد تھا، ان میں سے 98 فیصد میں ریشوں کی خرابی موجود تھی، لیکن حیرت انگیز طور پر 96 فیصد افراد ایسے تھے جنہیں کوئی درد نہیں تھا، ان میں بھی یہ خرابیاں پائی گئیں۔ مکمل پھٹے ہوئے ریشوں کے 96 کیسز میں سے 78 فیصد افراد میں کسی قسم کی علامات نہیں تھیں۔