تہران: ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال اور ممکنہ ناکہ بندی کا ذمہ دار امریکا اور اسرائیل کو قرار دے دیا ہے۔
یومِ خلیج فارس کے موقع پر جاری اپنے پیغام میں ایرانی صدر نے کہا کہ آبنائے ہرمز ایرانی قوم کی مزاحمت اور خودمختاری کی علامت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اہم آبی گزرگاہ میں کسی بھی قسم کی بدامنی کی ذمہ داری امریکا اور اسرائیل پر عائد ہوتی ہے۔
قومی سلامتی سے جڑا اہم معاملہ
مسعود پزشکیان نے واضح کیا کہ ایران آبنائے ہرمز کی سیکیورٹی کو اپنی قومی سلامتی کا لازمی حصہ سمجھتا ہے اور اس کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدامات کیے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ ایران خطے میں بیرونی مداخلت کو مسلسل مسترد کرتا آیا ہے اور حریف ممالک کو دور رکھنے کا فیصلہ اسی پالیسی کا حصہ ہے۔
بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کا الزام
ایرانی صدر کے مطابق اگر ایرانی بندرگاہوں پر امریکی بحری ناکہ بندی یا پابندیاں عائد کرنے کی کوشش کی گئی تو یہ بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہوگی اور ایسی کوششیں ناکام ہوں گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس نوعیت کی کارروائیاں خطے میں امن کے بجائے کشیدگی میں اضافہ کریں گی اور خلیج فارس میں دیرپا استحکام کی راہ میں رکاوٹ بنیں گی۔
اہم نکات:
- آبنائے ہرمز کی صورتحال پر ایران کا سخت مؤقف
- امریکا اور اسرائیل کو بدامنی کا ذمہ دار قرار
- ایران کا بیرونی مداخلت مسترد کرنے کا اعادہ
- ناکہ بندی کی کسی بھی کوشش کو غیر قانونی قرار
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اور عالمی سطح پر توانائی کے بحران کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔