Islamabad: Federal Constitutional Court Pakistan نے انکم ٹیکس آرڈیننس کی متنازع شق سیکشن 7E کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے جائیداد کی فرضی آمدن پر عائد ایک فیصد ٹیکس ختم کر دیا ہے۔
عدالت کے مطابق صرف ملکیت کی بنیاد پر کسی شہری کو آمدن تصور کرکے ٹیکس عائد کرنا آئین سے متصادم ہے، کیونکہ حقیقی آمدن کے بغیر ٹیکس کی وصولی جائز نہیں۔
عدالت کا اہم فیصلہ
فیصلے میں کہا گیا کہ:
- جائیداد کی ملکیت خود بخود آمدن نہیں سمجھی جا سکتی
- فرضی آمدن پر ٹیکس آئینی اصولوں کے خلاف ہے
- سیکشن 7E ابتدا ہی سے قانونی و آئینی طور پر کمزور تھا
سیکشن 7E کیا تھا؟
یہ شق Federal Board of Revenue نے فنانس ایکٹ 2022 کے تحت متعارف کرائی تھی، جس کے مطابق:
- غیر منقولہ جائیداد کی مالیت کا 5 فیصد فرضی آمدن تصور کیا جاتا تھا
- اس پر 20 فیصد ٹیکس لگایا جاتا تھا
- عملی طور پر یہ جائیداد کی کل مالیت کا تقریباً 1 فیصد ٹیکس بنتا تھا
عدالت کے احکامات
- سیکشن 7E کے تحت تمام جاری نوٹسز اور کارروائیاں ختم
- ٹیکس دہندگان کی اپیلیں منظور
- ایف بی آر اور کمشنر ان لینڈ ریونیو کی درخواستیں مسترد
پس منظر
اس سے قبل مختلف ہائی کورٹس بھی اس شق پر سوال اٹھا چکی تھیں، جن میں Peshawar اور Balochistan کی عدالتوں کے فیصلے بھی شامل ہیں، جبکہ اسلام آباد ہائی کورٹ نے بھی اس کی بعض شقوں کو کالعدم قرار دیا تھا۔
اہم نکات:
- فرضی آمدن پر ٹیکس غیر آئینی قرار
- سیکشن 7E مکمل طور پر ختم
- تمام متعلقہ ٹیکس کارروائیاں بھی کالعدم
- جائیداد صرف ملکیت کی بنیاد پر آمدن نہیں سمجھی جا سکتی