Islamabad: دو روزہ “بریتھ پاکستان کانفرنس” میں ماہرین، پالیسی سازوں اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے اسٹیک ہولڈرز نے موسمیاتی تبدیلی کے بڑھتے ہوئے خطرات پر تفصیلی غور کیا اور اس سے نمٹنے کیلئے مشترکہ حکمت عملی اپنانے پر زور دیا۔
کانفرنس میں کہا گیا کہ موسمیاتی تبدیلی اب صرف ماحولیاتی مسئلہ نہیں رہی بلکہ یہ انسانی بقا، معیشت اور قومی سلامتی کیلئے بھی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔
موسمیاتی تبدیلی: سنگین عالمی خطرہ
Yousaf Raza Gillani نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ:
- موسمیاتی تبدیلی خوراک اور پانی کی دستیابی کیلئے خطرہ ہے
- سیلابوں کی شدت اور تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے
- فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں
صوبائی سطح پر اقدامات
Maryam Aurangzeb نے کہا کہ پنجاب میں ترقیاتی منصوبوں میں ماحولیاتی تحفظ کو اولین ترجیح دی جا رہی ہے جبکہ فضائی آلودگی کم کرنے کیلئے ای بسوں کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے۔
حکومت کا مؤقف
وزیراعظم کی کوآرڈینیٹر برائے موسمیاتی تبدیلی Romina Khurshid Alam نے کہا کہ موسمیاتی بحران اب ایک “انسانی بحران” میں تبدیل ہو چکا ہے، جس سے نمٹنے کیلئے حکومت، اداروں اور عوام کو مل کر کام کرنا ہوگا۔
ماہرین کی وارننگ
کانفرنس میں ماہرین نے خبردار کیا کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو:
- قدرتی آفات میں اضافہ ہوگا
- زرعی پیداوار متاثر ہوگی
- معیشت پر دباؤ مزید بڑھے گا
اہم نکات:
- موسمیاتی تبدیلی کو انسانی بقا کیلئے خطرہ قرار
- سیلاب اور آلودگی میں اضافہ کی نشاندہی
- حکومتی اور صوبائی سطح پر اقدامات پر زور
- مشترکہ قومی حکمت عملی کی ضرورت پر اتفاق
یہ کانفرنس پاکستان میں ماحولیاتی پالیسی اور موسمیاتی ایکشن کی سمت ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔