سپریم کورٹ نے نظرثانی درخواست منظور کر لی
اسلام آباد: Anwar Saifullah Khan کو 2000 میں دی گئی سزا سپریم کورٹ نے کالعدم قرار دیتے ہوئے ان کی نظرثانی درخواست منظور کر لی۔
عدالت عظمیٰ نے لاہور ہائیکورٹ کا 2002 میں دیا گیا بریت کا فیصلہ بھی بحال کر دیا۔
آئین کا آرٹیکل 12 ماضی کے اثر سے سزا کی اجازت نہیں دیتا
فیصلہ Justice Salahuddin Panhwar کی جانب سے جاری کیا گیا۔
تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ آئین کا آرٹیکل 12 ماضی کے اثر سے سزا دینے پر مکمل پابندی عائد کرتا ہے، لہٰذا کسی بھی شخص کو ایسے قانون کے تحت زیادہ سزا نہیں دی جا سکتی جو بعد میں نافذ ہوا ہو۔
نیب آرڈیننس 1999 کے اطلاق پر عدالت کے ریمارکس
سپریم کورٹ نے قرار دیا کہ National Accountability Bureau (نیب) آرڈیننس 1999 کے تحت دی جانے والی سزا سابق قوانین کے مقابلے میں زیادہ سخت تھی۔
عدالت کے مطابق اس لیے اس قانون کا اطلاق ماضی کے مقدمات پر نہیں کیا جا سکتا۔
غیر قانونی تقرریوں کے الزام کا پس منظر
فیصلے میں کہا گیا کہ انور سیف اللہ خان نے بطور وزیر پٹرولیم تمام تقرریاں اوپن ریکارڈ اور محکمانہ روایات کے مطابق کیں۔
ان پر غیر قانونی تقرریوں کا الزام عائد کیا گیا تھا، تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مقدمے میں قانونی تقاضے پورے نہیں کیے گئے۔
2016 کا اکثریتی فیصلہ بھی کالعدم
سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں 20 جنوری 2016 کے اکثریتی فیصلے کو بھی کالعدم قرار دے دیا۔
عدالت عظمیٰ نے انور سیف اللہ خان کی سزا کے خلاف دائر نظرثانی درخواست منظور کرتے ہوئے لاہور ہائیکورٹ کا 13 جون 2002 کا بریت کا فیصلہ بحال کر دیا۔
اہم نکات
- سپریم کورٹ نے انور سیف اللہ خان کی سزا کالعدم قرار دی
- لاہور ہائیکورٹ کا بریت کا فیصلہ بحال کر دیا گیا
- عدالت نے آئین کے آرٹیکل 12 کا حوالہ دیا
- نیب آرڈیننس 1999 کے ماضی پر اطلاق کو غیر قانونی قرار دیا گیا
- 2016 کا اکثریتی فیصلہ بھی کالعدم قرار پایا
- کیس غیر قانونی تقرریوں کے الزامات سے متعلق تھا
نتیجہ
قانونی ماہرین کے مطابق سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ آئین کے آرٹیکل 12 اور ماضی کے قوانین کے اطلاق سے متعلق ایک اہم قانونی نظیر کی حیثیت رکھتا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اس فیصلے سے مستقبل میں ایسے مقدمات کے قانونی پہلوؤں پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔