Shehbaz Sharif کی زیر صدارت ایران اور خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) ممالک میں تعینات پاکستانی سفیروں کا اہم اجلاس اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی سفارت کاری، تجارت اور سرمایہ کاری کے فروغ سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
سفیروں کی وزیراعظم کو بریفنگ
اجلاس کے دوران مختلف ممالک میں تعینات پاکستانی سفیروں نے وزیراعظم کو اپنے اپنے ممالک کے ساتھ تعلقات کی موجودہ صورتحال، نئے اقتصادی مواقع اور درپیش چیلنجز کے بارے میں آگاہ کیا۔
سفیروں نے خطے میں جاری سیاسی و اقتصادی تبدیلیوں، تجارتی امکانات اور پاکستانی کمیونٹی سے متعلق امور پر بھی بریفنگ دی۔
اقتصادی سفارت کاری پر خصوصی توجہ
وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس میں اقتصادی سفارت کاری کو مزید فعال اور مؤثر بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں Gulf Cooperation Council ممالک اور Iran کو خصوصی اہمیت حاصل ہے۔
انہوں نے سفیروں کو ہدایت کی کہ وہ:
- تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع تلاش کریں
- توانائی کے شعبے میں تعاون کو فروغ دیں
- پاکستانی برآمدات میں اضافے کے لیے کردار ادا کریں
- ترسیلات زر بڑھانے کے لیے عملی اقدامات کریں
- بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے مسائل کے حل پر توجہ دیں
علاقائی امن و استحکام پر گفتگو
اجلاس میں خطے کی مجموعی صورتحال، امن و استحکام اور اقتصادی تعاون کے فروغ پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان خطے میں پائیدار امن، مشترکہ ترقی اور اقتصادی شراکت داری کو فروغ دینے کے لیے پُرعزم ہے۔
اجلاس میں اہم شخصیات کی شرکت
اجلاس میں Ishaq Dar، وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر سید توقیر شاہ، معاون خصوصی سید طارق فاطمی اور سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ سمیت اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔
اہم نکات
- وزیراعظم کی زیر صدارت ایرانی اور خلیجی ممالک میں تعینات سفیروں کا اجلاس
- اقتصادی سفارت کاری مؤثر بنانے پر زور
- تجارت، سرمایہ کاری اور توانائی تعاون پر گفتگو
- ترسیلات زر اور اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل زیر بحث
- خطے میں امن و استحکام کے فروغ پر اتفاق
نتیجہ
وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا کہ پاکستان خلیجی ممالک اور ایران کے ساتھ اپنے تاریخی اور اقتصادی تعلقات کو مزید مضبوط بنانا چاہتا ہے۔ اجلاس میں سفیروں کو ہدایت کی گئی کہ وہ اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری اور عوامی روابط کے فروغ کے لیے فعال کردار ادا کریں تاکہ پاکستان کی معیشت کو مزید مستحکم بنایا جا سکے۔