Lahore High Court میں پنجاب بھر کے تعلیمی اداروں میں تین ماہ کی موسم گرما کی تعطیلات کے خلاف دائر درخواست پر سماعت ہوئی، جس کے بعد عدالت نے پنجاب حکومت سمیت دیگر فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔
عدالت میں کیا مؤقف اختیار کیا گیا؟
جسٹس Khalid Ishaq نے آل پرائیویٹ اسکولز فیڈریشن کی درخواست پر سماعت کی۔
درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ پنجاب حکومت کی جانب سے موسم گرما کی تعطیلات کے لیے تین ماہ تک تعلیمی ادارے بند رکھنے کا نوٹیفکیشن جاری کیا گیا، جس سے طلبہ کی تعلیم شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
تعلیمی سال کم ہونے پر تشویش
درخواست میں کہا گیا کہ پاکستان میں تعلیمی سال کم ہو کر تقریباً 120 دن رہ گیا ہے، جبکہ امریکہ، انگلینڈ اور دیگر ترقی یافتہ ممالک میں تعلیمی سال تقریباً 230 دن پر مشتمل ہوتا ہے۔
درخواست گزار کے مطابق:
- طویل تعطیلات سے تعلیمی معیار متاثر ہوگا
- طلبہ کی تعلیمی سرگرمیوں میں خلل پیدا ہوگا
- معاشرتی ترقی کے لیے تعلیم کا تسلسل ضروری ہے
عدالت سے کیا استدعا کی گئی؟
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ:
- تین ماہ کی تعطیلات کا نوٹیفکیشن کالعدم قرار دیا جائے
- موسم گرما کی تعطیلات کو 6 سے 8 ہفتوں تک محدود کیا جائے
اہم نکات
- لاہور ہائیکورٹ میں 3 ماہ کی گرمیوں کی چھٹیوں کے خلاف درخواست پر سماعت
- پنجاب حکومت اور دیگر فریقین کو نوٹس جاری
- درخواست آل پرائیویٹ اسکولز فیڈریشن کی جانب سے دائر
- تعلیمی سال کم ہونے پر تشویش کا اظہار
- عدالت سے تعطیلات کم کرنے کی استدعا
نتیجہ
لاہور ہائیکورٹ میں دائر درخواست نے پنجاب میں طویل گرمیوں کی تعطیلات کے معاملے کو اہم قانونی اور تعلیمی بحث بنا دیا ہے۔ اب عدالت پنجاب حکومت کا مؤقف سننے کے بعد آئندہ سماعت پر مزید کارروائی کرے گی۔