راولپنڈی میں آئی ایس پی آر کی تصدیق
Inter-Services Public Relations کے مطابق خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں دتہ خیل، سپن وام اور بنوں میں سیکیورٹی فورسز نے انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں کیں۔ ان کارروائیوں میں 48 گھنٹوں کے دوران 23 دہشت گرد ہلاک کیے گئے۔
اہم کارروائیوں کی تفصیلات
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق:
- متعدد دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا
- زیر زمین بنکرز اور خفیہ راستے تباہ کیے گئے
- بھاری مقدار میں اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد برآمد ہوا
- دہشت گرد نیٹ ورک کی سرگرمیوں کو شدید نقصان پہنچا
آئی ایس پی آر نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں ایک اہم کمانڈر جان میر عرف طور ثاقب بھی شامل ہے، جو مبینہ طور پر مختلف دہشت گرد کارروائیوں میں مطلوب تھا۔
دہشت گرد نیٹ ورک کے خلاف کارروائی
فوجی ترجمان کے مطابق یہ کارروائیاں اس بات کا حصہ ہیں کہ ملک میں بیرونی حمایت یافتہ دہشت گرد نیٹ ورکس کو ختم کیا جائے۔ بیان میں کہا گیا کہ دہشت گردوں کے انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنایا جا رہا ہے تاکہ ان کی دوبارہ تنظیم سازی روکی جا سکے۔
اہم نکات
- خیبر پختونخوا میں 3 مختلف علاقوں میں کارروائیاں
- 48 گھنٹوں میں 23 دہشت گرد ہلاک
- اہم کمانڈر جان میر عرف طور ثاقب مارا گیا
- اسلحہ، بارود اور خفیہ ٹھکانے تباہ
- دہشت گرد نیٹ ورک کو بڑا نقصان پہنچا
نتیجہ
سیکیورٹی فورسز کی یہ کارروائیاں ملک میں دہشت گردی کے خاتمے کے جاری آپریشنز کا حصہ ہیں۔ حکام کے مطابق انسداد دہشت گردی مہم مزید شدت کے ساتھ جاری رہے گی تاکہ امن و امان کو مکمل طور پر یقینی بنایا جا سکے۔