ایران کا یورپی ممالک سے متعلق اہم فیصلہ
تہران: ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ سابق رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ علی خامنہ ای کی تدفین کی تقریب میں ان یورپی ممالک کے سرکاری وفود کو مدعو نہیں کیا گیا جنہوں نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کی سرکاری سطح پر حمایت کی تھی۔
تقریب میں تقریباً 100 ممالک کی شرکت
اسماعیل بقائی کے مطابق مشرقی یورپ کے ممالک کے وفود تقریب میں شریک ہوں گے، جبکہ دنیا بھر کے تقریباً 100 ممالک سرکاری وفود، نمایاں شخصیات یا عوامی تنظیموں کے نمائندوں کو تعزیتی تقریبات میں شرکت کے لیے بھیج رہے ہیں۔
سربراہانِ مملکت اور اعلیٰ شخصیات کی موجودگی
ترجمان ایرانی وزارت خارجہ نے بتایا کہ کم از کم آٹھ ممالک کے سربراہانِ مملکت، جن میں صدور اور وزرائے اعظم شامل ہیں، تقریب میں شریک ہیں، جبکہ 12 ممالک کے پارلیمانی اسپیکرز بھی موجود ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ، دیگر وزرا اور خصوصی نمائندے بھی آخری رسومات میں شرکت کر رہے ہیں۔
اہم نکات
- ایران نے امریکی اور اسرائیلی حملوں کی حمایت کرنے والے یورپی ممالک کے سرکاری وفود کو مدعو نہیں کیا۔
- مشرقی یورپ سمیت تقریباً 100 ممالک کے وفود تعزیتی تقریبات میں شریک ہیں۔
- آٹھ ممالک کے سربراہانِ مملکت اور 12 پارلیمانی اسپیکرز تقریب میں موجود ہیں۔
- مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ، وزرا اور خصوصی نمائندے بھی ایران پہنچ چکے ہیں۔
نتیجہ
ایران کی جانب سے تعزیتی تقریب میں شرکت کے لیے مخصوص ممالک کو مدعو نہ کرنے کا فیصلہ اس کی موجودہ خارجہ پالیسی اور حالیہ علاقائی کشیدگی کے تناظر میں ایک اہم سفارتی پیغام تصور کیا جا رہا ہے، جبکہ بڑی تعداد میں عالمی وفود کی شرکت ان تقریبات کی بین الاقوامی اہمیت کو بھی نمایاں کرتی ہے۔