سیکیورٹی وجوہات کے باعث اہم فیصلہ
تہران: میڈیا رپورٹس کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای سیکیورٹی خدشات کے باعث اپنے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں شرکت نہیں کریں گے۔
نمازِ جنازہ اور تدفین کا شیڈول
رپورٹس کے مطابق نمازِ جنازہ کے بعد آیت اللہ علی خامنہ ای کے جسدِ خاکی کو تہران سے قم منتقل کیا جائے گا، جہاں سے اسے عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا لے جایا جائے گا۔
بعد ازاں میت کو دوبارہ ایران لایا جائے گا اور آیت اللہ علی خامنہ ای کو ان کے آبائی شہر مشہد میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔
لاکھوں افراد کی شرکت متوقع
میڈیا رپورٹس کے مطابق جنازہ جلوس میں ایک کروڑ سے زائد افراد کی شرکت متوقع ہے، جبکہ ایرانی حکومت نے 8 جولائی کو ملک گیر سوگ کا اعلان بھی کر دیا ہے۔
اہم نکات
- سیکیورٹی خدشات کے باعث آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نمازِ جنازہ میں شرکت نہیں کریں گے۔
- نمازِ جنازہ کے بعد میت کو قم، پھر نجف اور کربلا لے جایا جائے گا۔
- بعد ازاں آیت اللہ علی خامنہ ای کو مشہد میں سپردِ خاک کیا جائے گا۔
- ایرانی حکومت نے 8 جولائی کو ملک گیر سوگ کا اعلان کیا ہے، جبکہ جنازے میں ایک کروڑ سے زائد افراد کی شرکت متوقع بتائی جا رہی ہے۔
نتیجہ
آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات غیر معمولی سیکیورٹی انتظامات کے تحت انجام دی جا رہی ہیں۔ سیکیورٹی خدشات کے باعث خاندان کے اہم افراد کی نقل و حرکت محدود رکھنے کا فیصلہ ان انتظامات کی حساسیت کو ظاہر کرتا ہے، جبکہ لاکھوں افراد کی متوقع شرکت کے پیشِ نظر ایران بھر میں سخت حفاظتی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔