Home سیاست سائفر کیس میں جج نے اپنے فیصلے میں کس بنیاد پر یہ تحریر کیا کہ پاک امریکا تعلقات ختم ہوگئے؟، اسلام آباد ہائی کورٹ

سائفر کیس میں جج نے اپنے فیصلے میں کس بنیاد پر یہ تحریر کیا کہ پاک امریکا تعلقات ختم ہوگئے؟، اسلام آباد ہائی کورٹ

Share
Share

اسلام آباد: اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا ہے کہ سائفر کیس کے فیصلے میں ٹرائل کورٹ کے جج نے اپنے فیصلے میں کس بنیاد پر یہ تحریر کیا کہ پاک امریکا تعلقات ختم ہوگئے؟

اسلام آباد ہائی کورٹ میں سائفر کیس میں سزا کے خلاف اپیلوں کی سماعت ہوئی۔ بانی پی ٹی آئی کے وکیل بیرسٹر سلمان صفدر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ بانی پی ٹی آئی اور شاہ محمود قریشی سے 2,2 سوال پوچھے گئے، سوال پوچھنے کے فوری بعد سزا سنا دی گئی ، ملزم کے بیان سے پہلے ہی فیصلہ سنا دیا گیا، ہم سے ایسی کیا گستاخی ہوئی کہ ہمیں کورٹ سے باہر کر دیا کہ اب عدالت میں نہ آئیں۔

جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے استفسار کیا کہ ٹرائل کورٹ جج نے اپنے فیصلے میں یہ فائنڈنگ دی کہ پاکستان امریکا تعلقات ختم ہو گئے، ٹرائل جج نے کِس بنیاد پر یہ لکھا کہ تعلقات ختم ہو گئے؟
سلمان صفدر نے جواب دیا کہ ٹرائل جج نے امریکا میں پاکستانی سفیر اسد مجید کے بیان کی بنیاد پر لکھا۔جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے کہ اسد مجید نے بھی یہ نہیں کہا۔
سلمان صفدر نے کہا کہ ریاست کے دشمن کیلئے بنے قانون کو سیاسی دشمن کے خلاف استعمال کرلیا گیا، دشمن ریاست کون سی ہے، دشمن ریاست کو کیا فائدہ پہنچایا گیا؟۔چیف جسٹس نے کہا کہ پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ یہ قانون تو اب غیرضروری ہو چکا ہے، 75 سال میں کون سی اسمبلی نے اس قانون کو ختم کیا ؟۔

سلمان صفدر نے دلائل دیے کہ قانون کا مذاق بنایا، غیر سنجیدہ پراسیکیوشن کی گئی، اگر سیاسی انتقام کا نشانہ بنانا ختم ہو تو چیزوں کو بہتر کرنے کا موقع بھی مل جائے، سائفر سامنے اس لیے نہیں لائے کیونکہ وہ ملزم کی فیور کرتا، سائفر کا متن پلین ٹیکسٹ کی صورت میں بھی سامنے نہیں آیا، صرف ایک کاپی واپس نہ آنے پر کیس بنایا گیا، سائفر کی تو نو کاپیاں واپس نہیں آئی تھیں پھر کیس صرف بانی پی ٹی آئی کے خلاف کیوں؟ سائفر تو اس کو کہنا ہی نہیں چاہیے، وہ تو فارن آفس میں رہ گیا، اس کی کاپیاں بھجوائی گئیں۔

عدالت نے بیرسٹر سلمان صفدر سے کہا کہ آپ نے دس سال کی سزا کو ڈی مولش کرنے کی کوشش کی ہے، آپ نے اچھے سے دلائل دیے، ایک چیز آپ کے پاس آتی ہے وہ واپس نہیں کی جاتی اس پر بتائیں۔بیرسٹر سلمان صفدر نے پھر کہا کہ صرف بانی پی ٹی آئی نے واپس نہیں دینی تھی باقی لوگوں کے پاس بھی کاپیاں تھیں۔

چیف جسٹس عامر فاروق نے سلمان صفدر سے کہا کہ ہاتھی نکال دیا ہے تو دم بھی نکال دیں ، آپ کو مزید کل سن لیں گے۔بعدازاں عدالت نے کیس کی سماعت کل تک ملتوی کردی۔

Share
Related Articles

پنجاب میں خواتین کے تحفظ کے لیے 24 گھنٹے ٹول فری ہیلپ لائن کا آغاز

ہراسگی، تشدد اور ہنگامی حالات میں فوری مدد کی سہولت لاہور: پنجاب...

مودی کے لیے تخلیق کیے گئے ایوارڈز شرمناک کہانی ہیں، خواجہ آصف

وزیر دفاع کی نریندر مودی کو دیے گئے اعزاز پر شدید تنقید...

ترک صدر کی حمایت سے پاکستان کو ثالثی کا کردار ملا، وزیراعظم شہباز شریف

ترکیہ کو پاکستان کا مضبوط اور مخلص اتحادی قرار استنبول میں منعقدہ...

سابق وزیراعظم آزاد کشمیر سردار تنویر الیاس استحکام پاکستان پارٹی میں شامل

اسلام آباد: آزاد کشمیر کے سابق وزیراعظم سردار تنویر الیاس نے اپنے...