Home نیوز پاکستان وفاقی دارالحکومت کی مصروف شاہراہ پر پل سے لٹکتی ہوئی پھندا لگی پراسرار لاش،قتل یا خود کشی؟

وفاقی دارالحکومت کی مصروف شاہراہ پر پل سے لٹکتی ہوئی پھندا لگی پراسرار لاش،قتل یا خود کشی؟

Share
Share

اسلام آباد:وفاقی دارالحکومت میں تیس سالہ نوجوان کی مصروف شاہراہ اسلام آبادہائی وے پرفیض آباداورزیروپوائنٹ کے درمیان آئی ایٹ پل پرگلےمیں پھندالگی پراسرارنعش پولیس کوبرآمدہوئی ہےجس میں پولیس کاکہناہے کہ کیمیکل ایگزامینر کی رپورٹ میں واضح ہوگاکہ واقعہ خودکشی کاتھایا کہ مبینہ قتل تھا۔

متعلقہ تھانہ آبپارہ پولیس نےنعش قبضہ میں لیکر پوسٹمارتم کرانے کے بعد ورثاء کے حوالے کردی ہے۔

بتایاگیاہے کہ شدید دھند میں نعش کئی گھنٹے تک پل کے نیچے لٹکتی رہی جبکہ اس دوران مصروف شاہراہ پرٹریفک رواں دواں رہی مگر کسی نے اس بات کانوٹس نہ لیا ۔

سوموار کی صبح بھی شدید دھند تھی تاہم پٹرولنگ پولیس کاپتہ چلا جس پر متوفی کی پھندا لگی نعش کورسہ کاٹ کر نیچے لایا گیا جہاں سے ڈبل ون ڈبل ٹو نے نعش کو پمز پہنچایا۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ متوفی نے پل پر جہاں سے گلے میں رسہ ڈال کر اپنی زندگی کا خاتمہ کیا اسی پل پر اس نے اپنی جیب سے اپنا شناختی کارڈ ودیگر چیزیں رکھی ہوئی تھیں جو پولیس نے قبضہ میں لیں جن کی مدد سے اسکی شناخت عمر شہام کے نام سے ہوئی اوراسکا تعلق صوبہ کے پی کے کے ضلع مردان سے ہے۔

پولیس ذرائع کے مطابق متوفی آئی نائن ون میں واقع کچی آبادی کارہائشی تھا اوراپنے والدین کے ساتھ رہتا تھا جسکی اتوار کو اپنے گھر میں کسی بات پر ناراضگی ہوئی اور اس نے یہ اقدام اٹھایا۔

دوسری جانب متوفی کے والد کاپولیس نے بیان قلمبند کرلیاہے ۔پولیس کے مطابق متوفی کے والد عمر بہادر کا کہنا ہے کہ اسکا بیٹا تیس سالہ عمر شہام زہنی طور پر بھی مکمل درست نہیں تھا اور اسے نفسیاتی مسائل بھی تھے اوروہ اپنے بیٹے کا پوسٹمارٹم نہیں کرانا چاہتے تاہم پولیس نے انکی درخواست ماننے سے انکار کرتے ہوئے متوفی کا پوسٹمارٹم پمز سے کرانے کے بعدنعش ورثاء کے حوالے کردی ہے۔

تھانہ آبپارہ پولیس ذرائع کا کہناہے کہ پھندالگی نعش برآمد ہونے کے بعد پوسٹمارٹم رپورٹ میں یہ طے ہوگا کہ تیس سالہ عمر شہام کی موت خود کشی تھی یا کہ قتل تھا ؟ ۔

پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ گو کہ متوفی کے والد کا موقف ہے کہ اسکے بیٹے کازہنی تواز بھی درست نہیں تھا لیکن جائے وقوعہ سے متوفی کی برآمد ہونیوالے جوتے اورکپڑے جس انداز میں زمین پر سلیقہ کے ساتھ رکھے گئے تھے اس سے یہ کہنا قبل ازوقت ہے کہ متوفی زہنی مریض تھا۔اسکا پوسٹمارٹم کرانے کے بعد نمونے کیمیکل ایگزامینر کو بھجوا دئیے گئے ہیں جنکی رپورٹ آنے پرواضح ہوگا کہ اسکی موت کیسے واقعہ ہوئی۔

پولیس کے مطابق سردست والد کے بیان پر تھانہ میں رپٹ درج کرلی گئی ہے جس میں اگر کیمیکل ایگزامینر کو بھیجے گئے نمونوں کی رپورٹ میں تبدیلی آئی تو پھر مقدمہ درج ہوگا اوراس میں میڈیکل رپورٹس کے مطابق دفعات لگائی جائیں گی۔

Share
Related Articles

خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی فورسز کی بڑی کارروائیاں، 23 دہشت گرد ہلاک

راولپنڈی میں آئی ایس پی آر کی تصدیق Inter-Services Public Relations کے...

چین پاکستان کا قابلِ اعتماد شراکت دار، دونوں ممالک کی دوستی مثالی قرار

اسلام آباد میں پاک چین تعلقات کی 75ویں سالگرہ کی تقریب اسلام...

دہشت گردی کے خلاف جنگ پوری قومی قوت کے ساتھ جاری رہے گی، فیلڈ مارشل عاصم منیر

راولپنڈی: Syed Asim Munir نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف...

آغا خان ڈویلپمنٹ نیٹ ورک کی خدمات قابلِ تحسین ہیں، وزیراعظم شہباز شریف

اسلام آباد: وزیرِ اعظم Shehbaz Sharif نے کہا ہے کہ Aga Khan...