واشنگٹن: امریکی فضائیہ نے انٹرسیپٹر ڈرونز کی خریداری کے لیے ایک ایسی کمپنی سے معاہدہ کر لیا ہے جسے سابق امریکی صدر Donald Trump کے بیٹوں کی حمایت حاصل ہے، جس پر سیاسی اور دفاعی حلقوں میں بحث شروع ہو گئی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ معاہدہ امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کے تحت کیا گیا، تاہم ڈرونز کی تعداد اور مالی تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔
’گارڈین-2‘ ڈرون کی خصوصیات
معاہدے کے تحت فراہم کیے جانے والے انٹرسیپٹر ڈرون، جنہیں “گارڈین-2” کہا جاتا ہے، کم لاگت، تیز رفتار اور نیم خودکار نظام کے حامل ہیں۔ یہ ڈرون خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں ایرانی طرز کے حملہ آور ڈرونز کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کیے گئے ہیں۔
کمپنی کا مؤقف
کمپنی کے شریک بانی بریٹ ویلیکووچ نے اس معاہدے کو مکمل طور پر میرٹ پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ دفاعی ادارے کسی کمپنی کا انتخاب اس کے سرمایہ کاروں کی بنیاد پر نہیں بلکہ تکنیکی صلاحیت اور ضرورت کے مطابق کرتے ہیں۔
چین پر انحصار کم کرنے کی کوشش
رپورٹس کے مطابق اس معاہدے سے امریکا کو دفاعی مصنوعات میں استعمال ہونے والی دھاتوں کے لیے چین پر انحصار کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے، جو کہ اسٹریٹیجک لحاظ سے اہم پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔
مالی پہلو بھی زیر بحث
دوسری جانب میڈیا رپورٹس میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ Eric Trump کی دولت میں حالیہ مہینوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس نے اس معاہدے پر مزید توجہ مرکوز کر دی ہے۔
اہم نکات:
- امریکی فضائیہ کا انٹرسیپٹر ڈرونز خریدنے کا معاہدہ
- ٹرمپ خاندان سے منسلک کمپنی کو کنٹریکٹ
- “گارڈین-2” ڈرون مشرق وسطیٰ کی ضروریات کے مطابق تیار
- چین پر دفاعی انحصار کم کرنے کی کوشش
یہ معاہدہ دفاعی حکمت عملی، سیاسی اثرات اور معاشی مفادات کے تناظر میں اہمیت اختیار کر گیا ہے۔