Home sticky post 4 سنی اتحاد کونسل نے 26 ویں آئینی ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا

سنی اتحاد کونسل نے 26 ویں آئینی ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا

Share
Share

اسلام آباد: سنی اتحاد کونسل نے 26 ویں آئینی ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کردیا۔درخواست میں استدعا کی گئی کہ چھبیسویں ترمیم کو غیر آئینی قرار دیا جائے، اس کے سیکشنز 7، 10، 14، 17، 21 اور 27 کو بھی غیر آئینی قرار دیا جائے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ 26 ویں آئینی ترمیم غیر آئینی، غیر قانونی اور ناقابل عمل ہے۔
سنی اتحاد کونسل کی جانب سے سپریم کورٹ میں دائر درخواست میں کہا گیا کہ 26 ویں ترمیم سے آئین کی اہم خصوصیات اور بنیادی اقدار ختم ہو گئی ہیں، ترمیم سے عدلیہ کی آزادی بھی ختم ہو گئی جبکہ بنیادی حقوق اور اختیارات کی تقسیم متاثر ہوئی ہے۔
درخواست میں کہا گیا کہ چھبیسویں ترمیم آئین کی بنیادی خصوصیات بدلنے، منسوخ کرنے یا ختم کرنے کی کوشش ہے، ترمیم آئین کے آرٹیکل 239 کے تحت غیر قانونی اور ناقابل عمل ہے۔
درخواست میں استدعا کی گئی کہ چھبیسویں ترمیم کو غیر آئینی قرار دیا جائے، اس کے سیکشنز 7، 10، 14، 17، 21 اور 27 کو بھی غیر آئینی قرار دیا جائے۔
درخواست میں مزید کہا گیا کہ ترمیم غیر قانونی اور غلط طریقے سے منظور کی گئی، چھبیسویں آ?ینی ترمیم کے ذریعے ہونے والے تمام فیصلوں، نوٹیفکیشنز اور تقرریوں کو کالعدم قرار دیا جائے، چھبیسویں ترمیم کے حق میں ووٹوں کے حصول کے طریقہ کار کی آزادانہ تحقیقات کی جائیں اور ترمیم پاس کروانے کیلئے جبری اقدامات اورغیرقانونی طریقوں کے الزامات کی تحقیقات کی جائیں۔
درخواست میں مزید استدعا کی گئی کہ سپریم کورٹ (پریکٹس اینڈ پروسیجر) ترمیمی ایکٹ 2024 اور سپریم کورٹ (?ججز کی تعداد) ترمیمی ایکٹ 2024 غیر آئینی قرار دیا جائے۔

Share
Related Articles

امریکی سینیٹر لنزے گراہم 71 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

ریپبلکن رہنما اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی اتحادی طویل سیاسی خدمات...

یورپ میں شدید گرمی کی لہر، جنگلات میں ہولناک آتشزدگی، ہزاروں افراد محفوظ مقامات پر منتقل

فرانس، اسپین، پرتگال اور یونان میں 42 ہزار ایکڑ سے زائد رقبہ...

لنڈا نوسکووا ومبلڈن اوپن خواتین سنگلز کی نئی چیمپئن بن گئیں

ہم وطن کیرولینا موچووا کو شکست دے کر کیریئر کا پہلا گرینڈ...

او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین، تکنیکی سیشنز جاری، مرکزی اجلاس کل ہوگا

57 رکن ممالک کے 190 مندوبین کی شرکت، خواتین کے حقوق، بااختیار...