57 رکن ممالک کے 190 مندوبین کی شرکت، خواتین کے حقوق، بااختیار بنانے اور مشترکہ حکمتِ عملی پر غور کیا جائے گا
اسلام آباد: اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے رکن ممالک کی خواتین سے متعلق 9ویں وزارتی کانفرنس کے تکنیکی سیشنز اسلام آباد میں جاری ہیں، جبکہ کانفرنس کا مرکزی وزارتی اجلاس کل منعقد ہوگا۔
کانفرنس کے انعقاد کے لیے تمام انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔ اس اہم بین الاقوامی اجلاس میں او آئی سی کے 57 رکن ممالک سے تقریباً 190 مندوبین شرکت کر رہے ہیں، جن میں ممتاز خواتین شخصیات، اعلیٰ سرکاری حکام، او آئی سی کے مبصرین اور دیگر عہدیداران شامل ہیں۔
پاکستان پہلی بار میزبان
او آئی سی خواتین کی وزارتی کانفرنس کا پہلا اجلاس 2006 میں ترکیہ کے شہر استنبول میں منعقد ہوا تھا، جس کے بعد ہر تین سے چار سال کے وقفے سے یہ کانفرنس مختلف رکن ممالک میں منعقد ہوتی رہی ہے۔ اس مرتبہ اس اہم کانفرنس کی میزبانی کا اعزاز پاکستان کو حاصل ہوا ہے۔
خواتین کے حقوق اور ترقی پر تبادلہ خیال
کانفرنس میں رکن ممالک خواتین کے حقوق سے متعلق ہونے والی پیش رفت کا جائزہ لیں گے، قومی پالیسیوں اور تجربات کا تبادلہ کریں گے، جبکہ مستقبل کے لیے مشترکہ فریم ورک اور لائحہ عمل کی منظوری بھی دی جائے گی۔
اجلاس میں خواتین کی سیاسی اور پیشہ ورانہ شعبوں میں نمائندگی بڑھانے، معاشی وسائل اور مالیاتی نظام تک رسائی بہتر بنانے، اور ٹیکنالوجی و ڈیجیٹل شعبوں میں صنفی تفاوت کم کرنے کے اقدامات پر بھی غور کیا جائے گا۔
مشترکہ تعاون کو فروغ دینے پر زور
او آئی سی کے رکن ممالک کے نمائندے خواتین کو بااختیار بنانے، ان کے بنیادی حقوق کے تحفظ اور جامع سماجی و اقتصادی ترقی کے لیے باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے طریقۂ کار پر بھی تبادلۂ خیال کریں گے۔
اہم نکات
- اسلام آباد میں او آئی سی کی 9ویں وزارتی کانفرنس برائے خواتین کے تکنیکی سیشنز جاری ہیں۔
- مرکزی وزارتی اجلاس کل منعقد ہوگا۔
- 57 رکن ممالک کے تقریباً 190 مندوبین کانفرنس میں شریک ہیں۔
- خواتین کے حقوق، معاشی خودمختاری، سیاسی شمولیت اور ڈیجیٹل شعبے میں مساوی مواقع پر غور ہوگا۔
- پاکستان پہلی بار او آئی سی خواتین کی وزارتی کانفرنس کی میزبانی کر رہا ہے۔
نتیجہ
او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین رکن ممالک کے درمیان خواتین کے حقوق، بااختیار بنانے اور پائیدار ترقی کے لیے مشترکہ حکمتِ عملی وضع کرنے کا ایک اہم فورم ہے۔ توقع ہے کہ کانفرنس کے اختتام پر ایسے فیصلے اور سفارشات سامنے آئیں گی جو اسلامی دنیا میں خواتین کی سماجی، معاشی اور پیشہ ورانہ ترقی کے لیے مؤثر رہنمائی فراہم کریں گی