بیروت: لبنان میں اقوام متحدہ کے قافلے پر حملے کے بعد 25 سے زائد افراد کو گرفتار کر لیا گیا، جب کہ حملے میں UNIFIL کے ڈپٹی کمانڈر اور ایک نیپالی امن اہلکار زخمی ہو گئے۔
یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب حزب اللہ کے حامیوں نے مسلسل دوسرے دن لبنان کے واحد بین الاقوامی ایئرپورٹ جانے والی سڑک بند کر دی، جس کی وجہ ایرانی پروازوں کی لینڈنگ پر پابندی بنی۔ احتجاج کو روکنے کے لیے فورسز نے آنسو گیس کے شیل فائر کیے۔
UNIFIL نے حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے فوری اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ حملے میں زخمی ہونے والے چوک بہادر ڈھاکل اپنی ذمہ داری مکمل کر کے نیپال واپسی کے لیے جا رہے تھے۔
لبنانی صدر جوزف عون نے کہا کہ “حملہ آوروں کو سخت سزا دی جائے گی”، جبکہ وزیراعظم نواف سلام نے خبردار کیا کہ “آزادئ اظہار ضروری ہے، مگر سرکاری اور نجی املاک پر حملے برداشت نہیں کیے جا سکتے”۔
ہجوم میں شامل بعض افراد حزب اللہ کے جھنڈے اٹھائے ہوئے تھے اور ایک فوجی افسر کو نشانہ بنا رہے تھے۔ حزب اللہ کے چینل المنار نے دعویٰ کیا کہ حملے میں نامعلوم نقاب پوش ملوث تھے۔
ابھی تک یہ واضح نہیں ہو سکا کہ قافلے پر حملے کے اصل ذمہ دار کون ہیں، تاہم سیکیورٹی فورسز نے مزید گرفتاریوں کا عندیہ دیا ہے۔