تہران :ایرانی ساختہ شاہد ڈرون سستے مگر انتہائی مہلک ثابت ہو رہے ہیں، ان ڈرونز نے مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں اپنے اہداف پر بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔
خبر ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق شاہد ڈرون جی پی ایس کے بغیر بھی ہدف تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ان ڈرون میں انرشیل نیویگیشن سسٹم استعمال کیا جاتا ہے، ڈرون پہلے جی پی ایس سے مقام رجسٹر کرتے ہیں پھر جیمنگ سے بچنے کیلئے آف لائن پرواز کرتے ہیں۔
ہدف کے قریب پہنچ کر ڈرون دوبارہ جی پی ایس سے جڑ کر زیادہ درست حملہ کرتے ہیں۔
امریکی تحقیقاتی ادارے کے مطابق روسی ساختہ شاہد طرز ڈرون میں جدید اینٹی جیمنگ اینٹینا ٹیکنالوجی نصب ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ ایرانی ڈرون میں امریکی فوجی جی پی ایس جیسی جدید صلاحیتیں بھی شامل ہیں۔
ہلکے پلاسٹک اور فائبر گلاس سے بنے شاہد ڈرون ریڈار سے بچ کر کم بلندی پر پرواز کرتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہپے کہ ایران ممکنہ طور پر BEIDOU اور GLONASS نیویگیشن سسٹمز بھی استعمال کر رہا ہے۔