Home highlight پاکستان کا اقوام متحدہ سے مطالبہ، سندھ طاس معاہدے کی مبینہ خلاف ورزیوں کا نوٹس لیا جائے

پاکستان کا اقوام متحدہ سے مطالبہ، سندھ طاس معاہدے کی مبینہ خلاف ورزیوں کا نوٹس لیا جائے

Share
Share

اسلام آباد: بھارت کے آبی منصوبوں پر سلامتی کونسل سے رجوع

پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے مطالبہ کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے سے متعلق مبینہ خلاف ورزیوں کا نوٹس لیا جائے۔

نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سلامتی کونسل کو خط لکھ کر پاکستان کے تحفظات سے آگاہ کیا ہے۔

سلامتی کونسل کو خط میں پاکستان کا مؤقف

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے نائب وزیراعظم کا مکتوب سلامتی کونسل کی صدر کو پیش کیا۔

خط میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بھارت کے بعض اقدامات پاکستان کے آبی تحفظ، علاقائی استحکام اور بین الاقوامی امن کے لیے تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔

دریائے چناب سے متعلق منصوبوں پر اعتراض

پاکستان نے سلامتی کونسل کی توجہ دریائے چناب کے نظام سے متعلق دو بھارتی انفراسٹرکچر منصوبوں کی جانب مبذول کرائی ہے۔

پاکستانی مؤقف کے مطابق ان منصوبوں کے ذریعے پانی کے بہاؤ میں تبدیلی کی کوشش کی جا رہی ہے، جس سے سندھ طاس معاہدے کے تحت طے شدہ اصول متاثر ہو سکتے ہیں۔

پانی کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کا الزام

پاکستان نے الزام عائد کیا ہے کہ بھارت مغربی دریاؤں کے پانی کے استعمال اور بہاؤ میں یکطرفہ تبدیلی کی کوشش کر رہا ہے۔

اسلام آباد کے مطابق اس معاملے کے اثرات پاکستان کی آبی، غذائی اور معاشی سلامتی پر پڑ سکتے ہیں۔

سندھ طاس معاہدے کی اہمیت

سندھ طاس معاہدہ 1960 میں ورلڈ بینک کی ثالثی سے پاکستان اور بھارت کے درمیان طے پایا تھا۔

معاہدے کے تحت:

  • دریائے راوی، بیاس اور ستلج کا پانی بھارت کے لیے مختص کیا گیا۔
  • دریائے سندھ، جہلم اور چناب کے پانی پر پاکستان کو زیادہ حقوق دیے گئے۔

یہ معاہدہ کئی دہائیوں تک دونوں ممالک کے درمیان آبی تعاون کا اہم فریم ورک رہا ہے۔

پاکستان کا بین الاقوامی اداروں سے مطالبہ

پاکستان نے سلامتی کونسل سے درخواست کی ہے کہ وہ صورتحال کا جائزہ لے اور معاہدے سے متعلق معاملات پر توجہ دے۔

پاکستانی حکام کے مطابق آبی معاملات کا حل بین الاقوامی قوانین اور طے شدہ معاہدوں کے مطابق ہونا چاہیے۔

عالمی ثالثی فیصلوں کا حوالہ

پاکستان نے سندھ طاس معاہدے سے متعلق عالمی ثالثی فیصلوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ معاہدہ یکطرفہ طور پر ختم یا معطل نہیں کیا جا سکتا۔

اسلام آباد کے مطابق عالمی فورمز پر ہونے والی پیش رفت بھی معاہدے کی اہمیت کو واضح کرتی ہے۔

چناب کے پانی کی منتقلی سے متعلق خدشات

پاکستانی حکام نے بھارتی منصوبوں پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دریائے چناب کے پانی کو دوسرے دریائی نظام کی طرف منتقل کرنے کے منصوبے سندھ طاس معاہدے کی روح کے خلاف ہیں۔

پاکستان کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات سے خطے میں آبی تنازعات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

سالال ڈیم اور دیگر منصوبے

پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں سالال ڈیم سے متعلق بعض سرگرمیوں پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔

حکام کے مطابق پانی کے بہاؤ پر کسی بھی ایسے کنٹرول سے گریز ہونا چاہیے جو دوطرفہ معاہدوں سے متصادم ہو۔

اہم نکات

  • پاکستان نے سندھ طاس معاہدے کے معاملے پر اقوام متحدہ سے رجوع کیا۔
  • اسحاق ڈار نے سلامتی کونسل کو خط لکھا۔
  • دریائے چناب سے متعلق بھارتی منصوبوں پر اعتراضات اٹھائے گئے۔
  • پاکستان نے آبی تحفظ اور علاقائی استحکام کے خدشات ظاہر کیے۔
  • سندھ طاس معاہدہ 1960 میں طے پایا تھا۔
  • پاکستان نے بین الاقوامی قوانین کے مطابق مسئلے کے حل پر زور دیا۔

نتیجہ

سندھ طاس معاہدہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک اہم آبی معاہدہ ہے جو کئی دہائیوں سے دونوں ممالک کے تعلقات کا حساس معاملہ رہا ہے۔ پاکستان کا کہنا ہے کہ آبی حقوق کا تحفظ ضروری ہے، جبکہ معاملے کا حل مذاکرات، بین الاقوامی قوانین اور طے شدہ معاہدوں کے مطابق تلاش کیا جانا چاہیے۔

Share
Related Articles

ایم ڈی کیٹ 2026 کا شیڈول جاری، داخلہ ٹیسٹ 16 اگست کو ہوگا

پی ایم ڈی سی نے MBBS اور BDS داخلوں کے لیے اہم...

اسرائیلی ڈرون اور فضائی حملوں سے لبنان میں تباہی، 16 افراد شہید

جنوبی لبنان پر شدید بمباری، متعدد افراد زخمی اور لاپتا بیروت: جنوبی...

کینیڈا کی تاریخی کامیابی، قطر کو 6-0 سے شکست

وینکوور: فیفا ورلڈ کپ میں کینیڈا نے پہلی فتح کا جشن منا...

ایران جنگ کے اخراجات، پینٹاگون نے کانگریس سے 80 ارب ڈالر اضافی فنڈز مانگ لیے

واشنگٹن: دفاعی ضروریات کے لیے اضافی بجٹ کا مطالبہ امریکی محکمہ دفاع...