فلوریڈا: گوگل کی ملکیت والے ویڈیو پلیٹ فارم YouTube کو بچوں کی ذہنی صحت سے متعلق ایک اور قانونی چیلنج کا سامنا کرنا پڑا، جہاں ایک کم عمر صارف نے الزام عائد کیا کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز نوجوانوں میں ڈپریشن، بے چینی اور نیند کی کمی جیسے مسائل کو فروغ دے رہے ہیں۔
امریکی ریاست فلوریڈا سے تعلق رکھنے والے 15 سالہ نوجوان نے سوشل میڈیا کی لت سے متعلق مقدمہ دائر کیا تھا، جس میں مؤقف اختیار کیا گیا کہ یوٹیوب اور دیگر پلیٹ فارمز کو اس انداز میں ڈیزائن کیا گیا ہے کہ صارفین زیادہ سے زیادہ وقت ان پر گزاریں اور ان کے عادی بن جائیں۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق نوجوان نے اپنی شناخت ظاہر کرنے کے بجائے "R.K.C” کے ابتدائی حروف استعمال کیے۔ مقدمے میں دعویٰ کیا گیا کہ سوشل میڈیا کمپنیوں کے الگورتھمز اور فیچرز بچوں اور نوجوانوں کی ذہنی صحت پر منفی اثرات مرتب کر رہے ہیں۔
تاہم YouTube نے اس مقدمے میں تصفیہ کر لیا ہے۔ گوگل کے ترجمان خوسے کاستانیڈا کے مطابق معاملہ خوش اسلوبی سے حل کر لیا گیا ہے اور کمپنی بدستور عمر کے مطابق موزوں مصنوعات اور والدین کے کنٹرولز کو بہتر بنانے پر توجہ دے رہی ہے۔
یہ نوجوان Meta، TikTok اور Snapchat کے خلاف بھی اسی نوعیت کے مقدمات دائر کر چکا ہے، جن کی سماعت 27 جولائی سے لاس اینجلس میں شروع ہونے کا امکان ہے۔
رپورٹس کے مطابق یہ مقدمہ کیلیفورنیا میں زیرِ التوا ایک ہزار سے زائد ایسے مقدمات کے سلسلے کا دوسرا بڑا ٹرائل ہوگا، جن میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر نوجوانوں کی ذہنی صحت کو متاثر کرنے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
اہم نکات
- 15 سالہ نوجوان نے یوٹیوب پر ذہنی صحت متاثر کرنے کا الزام لگایا۔
- مقدمے میں دعویٰ کیا گیا کہ پلیٹ فارمز صارفین کو عادی بنانے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں۔
- یوٹیوب نے مقدمے میں تصفیہ کر لیا ہے۔
- میٹا، ٹک ٹاک اور اسنیپ چیٹ کے خلاف بھی مقدمات زیر سماعت ہیں۔
- کیلیفورنیا میں اس نوعیت کے ایک ہزار سے زائد مقدمات زیر التوا ہیں۔
نتیجہ
سوشل میڈیا اور نوجوانوں کی ذہنی صحت کے درمیان تعلق ایک اہم عالمی بحث بن چکا ہے۔ یوٹیوب کے خلاف مقدمے کے تصفیے کے باوجود ٹیکنالوجی کمپنیوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ وہ کم عمر صارفین کے تحفظ، اسکرین ٹائم کے اثرات اور ذہنی صحت سے متعلق خدشات کو سنجیدگی سے حل کریں۔