تل ابیب: اسرائیل نے امریکا سے تل ابیب کے مرکزی بن گورین ایئرپورٹ سے فوجی اور ایندھن بردار طیاروں کی تعداد کم کرنے کی درخواست کر دی ہے تاکہ شہری پروازوں کی آمدورفت متاثر نہ ہو۔
اسرائیلی میڈیا رپورٹس کے مطابق اسرائیلی حکام نے امریکا سے مطالبہ کیا ہے کہ بن گورین ایئرپورٹ پر موجود اضافی فوجی اور ایندھن بردار طیاروں کو منتقل کیا جائے۔ اسرائیل کا مؤقف ہے کہ موسم گرما کے دوران مسافر پروازوں میں اضافے کے باعث ایئرپورٹ پر رش بڑھ رہا ہے اور فوجی طیاروں کی موجودگی سول ایوی ایشن آپریشنز میں رکاوٹ بن سکتی ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکا پہلے ہی بن گورین ایئرپورٹ سے 28 ایندھن بردار طیارے منتقل کر چکا ہے، تاہم اسرائیل نے مزید 20 فوجی طیارے بھی ہٹانے کی درخواست کی ہے۔
اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی ایندھن بردار طیاروں کی بڑی تعداد کی وجہ سے مسافر طیاروں کی آمد و رفت اور ایئرپورٹ آپریشنز متاثر ہو رہے ہیں، جس کے باعث شہری پروازوں کے شیڈول میں خلل کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔
اسرائیل نے امریکا کو بھیجے گئے پیغام میں زور دیا ہے کہ بن گورین ایئرپورٹ پر فوجی سرگرمیوں کو محدود کیا جائے تاکہ بڑھتے ہوئے فضائی ٹریفک دباؤ کے دوران ایئرپورٹ معمول کے مطابق کام کر سکے۔
اہم نکات
- اسرائیل نے امریکا سے بن گورین ایئرپورٹ سے اضافی فوجی طیارے ہٹانے کی درخواست کی۔
- امریکا 28 ایندھن بردار طیارے پہلے ہی منتقل کر چکا ہے۔
- اسرائیل نے مزید 20 فوجی طیارے ہٹانے کا مطالبہ کیا ہے۔
- موسم گرما میں مسافر پروازوں میں اضافے کے باعث فضائی دباؤ بڑھنے کا خدشہ ظاہر کیا گیا۔
- اسرائیلی حکام کے مطابق فوجی طیاروں کی موجودگی سول ایوی ایشن آپریشنز کو متاثر کر رہی ہے۔
نتیجہ
اسرائیل کی جانب سے بن گورین ایئرپورٹ سے امریکی فوجی اور ایندھن بردار طیارے ہٹانے کی درخواست اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ بڑھتی ہوئی فضائی سرگرمیوں کے دوران شہری پروازوں کی روانی برقرار رکھنا ترجیح بن چکا ہے۔ اگر یہ مطالبات منظور ہوتے ہیں تو ایئرپورٹ پر آپریشنل دباؤ میں کمی اور مسافروں کو بہتر سہولیات فراہم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔