استنبول: ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے پاکستان کے امن، ترقی اور خوشحالی کے لیے کیے گئے اقدامات کو قابلِ ستائش قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ترکیہ ہر شعبے میں پاکستان کی بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف کے ہمراہ استنبول میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترک صدر نے پاکستانی وفد کا گرمجوشی سے خیرمقدم کیا اور کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات تاریخی، برادرانہ اور مضبوط بنیادوں پر استوار ہیں۔
دوطرفہ تعاون پر اطمینان کا اظہار
صدر اردوان نے کہا کہ ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان تعاون کے مختلف شعبوں پر تفصیلی تبادلۂ خیال کیا گیا، جبکہ پاک-ترکیہ تعلقات کی موجودہ رفتار پر بھی اطمینان کا اظہار کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہے ہیں اور مستقبل میں بھی ہر مشکل وقت میں باہمی تعاون کا یہ سلسلہ جاری رہے گا۔
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کا خیرمقدم
ترک صدر نے اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کو عالمی امن کے لیے ایک اہم پیش رفت قرار دیتے ہوئے اس کا خیرمقدم کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے امن، ترقی اور خوشحالی کے اقدامات قابلِ تعریف ہیں اور ترکیہ ان کوششوں میں ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔
خطے میں امن و استحکام پر زور
رجب طیب اردوان نے کہا کہ خطے میں پائیدار امن اور استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں ناگزیر ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ معاہدوں کو سبوتاژ کرنے کی کسی بھی کوشش، بشمول اسرائیلی جارحیت کے تناظر میں ہونے والی پیش رفت، پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔
تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ
مشترکہ پریس کانفرنس میں دونوں ممالک نے سیاسی، معاشی، تجارتی اور دفاعی تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا تاکہ خطے میں امن، ترقی اور خوشحالی کو فروغ دیا جا سکے۔
اہم نکات
- صدر رجب طیب اردوان نے پاکستان کے امن، ترقی اور خوشحالی کے اقدامات کو سراہا۔
- دونوں رہنماؤں نے پاک-ترکیہ تعلقات اور دوطرفہ تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا۔
- اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کو عالمی امن کے لیے اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔
- خطے میں امن، استحکام اور دفاعی و معاشی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا۔
نتیجہ
استنبول میں ہونے والی اعلیٰ سطحی ملاقات نے ایک بار پھر پاکستان اور ترکیہ کے مضبوط برادرانہ تعلقات کو اجاگر کیا۔ دونوں ممالک کی قیادت نے باہمی تعاون کو مزید وسعت دینے اور علاقائی امن و استحکام کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا، جو مستقبل میں دونوں ملکوں کے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔