وزیر دفاع کی نریندر مودی کو دیے گئے اعزاز پر شدید تنقید
اسلام آباد: وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کو دیے گئے ایک اعزاز پر سخت تنقید کرتے ہوئے اسے "اب تک کی سب سے زیادہ شرمناک کہانی” قرار دیا ہے۔
ایوارڈز مودی کی آمد سے چند روز قبل تخلیق کیے گئے، دعویٰ
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں خواجہ آصف نے دعویٰ کیا کہ مذکورہ ایوارڈز نریندر مودی کی آمد سے صرف چند روز قبل تخلیق کیے گئے تھے، جبکہ ان کے سرٹیفکیٹس کسی سستے مصنوعی ذہانت (AI) ماڈل کے ذریعے تیار کیے گئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سرٹیفکیٹس میں واضح املا کی غلطیاں بھی موجود تھیں، جبکہ نریندر مودی اس اعزاز کے پہلے اور واحد وصول کنندہ بنے۔
"یہ سستی مقبولیت یا خوشامد کی بدترین مثال ہے”
وزیر دفاع کے مطابق یہ منصوبہ بند اعزاز یا تو سستی شہرت حاصل کرنے کی ناکام کوشش ہے یا پھر خوشامد کی انتہائی مذموم شکل، جس سے اس اعزاز کی ساکھ پر سوالات کھڑے ہوتے ہیں۔
مودی بھارتی قوم کے لیے باعثِ شرمندگی بن چکے ہیں، خواجہ آصف
خواجہ آصف نے اپنے بیان میں مزید کہا کہ نریندر مودی بھارتی قوم کو شرمندگی سے دوچار کر رہے ہیں اور قومی سطح پر باعثِ شرمندگی بن چکے ہیں۔
اہم نکات
- خواجہ آصف نے مودی کو دیے گئے اعزاز پر شدید تنقید کی۔
- دعویٰ کیا کہ ایوارڈز مودی کی آمد سے چند روز قبل تخلیق کیے گئے۔
- سرٹیفکیٹس میں املا کی غلطیوں اور AI کے استعمال کا بھی دعویٰ کیا گیا۔
- وزیر دفاع نے اسے سستی مقبولیت اور خوشامد کی بدترین مثال قرار دیا۔
نتیجہ
وزیر دفاع خواجہ آصف نے نریندر مودی کو دیے گئے اعزاز کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے اس کی شفافیت اور ساکھ پر سوالات اٹھائے۔ تاہم ان کے الزامات متعلقہ دعووں پر مبنی ہیں اور اس حوالے سے متعلقہ حکام کی جانب سے کوئی باضابطہ ردِعمل سامنے نہیں آیا۔