Home #ٹرینڈ ترک صدر کی حمایت سے پاکستان کو ثالثی کا کردار ملا، وزیراعظم شہباز شریف

ترک صدر کی حمایت سے پاکستان کو ثالثی کا کردار ملا، وزیراعظم شہباز شریف

Share
Share

ترکیہ کو پاکستان کا مضبوط اور مخلص اتحادی قرار

استنبول میں منعقدہ بزنس ٹو بزنس (B2B) کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ترکیہ پاکستان کا مضبوط، قابلِ اعتماد اور مخلص اتحادی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ استنبول ایشیا اور یورپ کو ملانے والا تاریخی اور خوبصورت شہر ہے، جبکہ پاکستان اور ترکیہ کے درمیان برادرانہ تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں۔

جنگِ آزادی سے قائم ہونے والے تعلقات کا ذکر

وزیراعظم نے کہا کہ دونوں ممالک کے لازوال تعلقات کی بنیاد ترکیہ کی جنگِ آزادی کے دوران رکھی گئی، جب برصغیر کے مسلمانوں نے علی برادران کی قیادت میں ترک عوام کی بھرپور حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ نے ہمیشہ ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا ہے۔

صدر اردوان کی حمایت سے پاکستان کو ثالثی کا موقع ملا

شہباز شریف نے کہا کہ ترک صدر رجب طیب اردوان کی مخلصانہ حمایت سے پاکستان کو اہم سفارتی ثالثی کا کردار ادا کرنے کا موقع ملا۔ ان کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان مذاکراتی عمل میں پاکستان نے خلوصِ نیت سے اپنی ذمہ داری ادا کی، جو ایک نہایت مشکل سفارتی مشن تھا، تاہم اللہ کے فضل سے جنگ بندی ممکن ہوئی۔

امن، تجارت اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پر زور

وزیراعظم نے کہا کہ موجودہ امن کے ماحول سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دوطرفہ تعاون، تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی خوشحالی کے نئے مواقع پیدا کیے جانے چاہییں۔ انہوں نے کہا کہ صدر رجب طیب اردوان کی قیادت میں ترکیہ نے صنعتی اور معاشی میدان میں نمایاں کامیابیاں حاصل کی ہیں، جن سے پاکستان بھی استفادہ کرنا چاہتا ہے۔

پاکستان کی خودمختاری کے دفاع کا اعادہ

شہباز شریف نے کہا کہ جب پاکستان پر جنگ مسلط کی گئی تو ملک نے اپنی خودمختاری اور وقار کا بھرپور دفاع کیا۔ انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل کی قیادت میں افواجِ پاکستان نے دشمن کو ایسا جواب دیا جو تاریخ کا حصہ بن گیا، جبکہ اس مشکل وقت میں ترکیہ، سعودی عرب اور دیگر دوست ممالک نے پاکستان کے مؤقف کی حمایت کی۔


اہم نکات

  • وزیراعظم نے ترکیہ کو پاکستان کا مضبوط اور قابلِ اعتماد اتحادی قرار دیا۔
  • صدر رجب طیب اردوان کی حمایت سے پاکستان کو اہم سفارتی ثالثی کا کردار ملا۔
  • امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات میں پاکستان نے خلوصِ نیت سے کردار ادا کیا۔
  • وزیراعظم نے تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی تعاون کے فروغ پر زور دیا۔
  • پاکستان کی خودمختاری کے دفاع اور دوست ممالک کی حمایت کا بھی ذکر کیا گیا۔

نتیجہ

وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں پاکستان اور ترکیہ کے تاریخی تعلقات، سفارتی تعاون اور معاشی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ امن، سفارت کاری اور باہمی تعاون ہی خطے میں استحکام اور ترقی کی ضمانت ہیں۔

Share
Related Articles

مودی کے لیے تخلیق کیے گئے ایوارڈز شرمناک کہانی ہیں، خواجہ آصف

وزیر دفاع کی نریندر مودی کو دیے گئے اعزاز پر شدید تنقید...

کرسٹیانو رونالڈو نے زلزلہ متاثرہ بچے کی خواہش پوری کر دی، انسانیت کی نئی مثال قائم

وینزویلا کے زلزلے سے متاثرہ بچے کے لیے رونالڈو کا خصوصی پیغام...

استنبول میں وزیراعظم شہباز شریف کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس

استنبول: ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے پاکستان کے امن، ترقی...

صدر ٹرمپ کا دعویٰ: ایران سمجھوتہ کرنا چاہتا ہے، جنازے کے لیے ایک ہفتے کی مہلت دی

امریکہ کی 250ویں یومِ تاسیس کی تقریب سے خطاب واشنگٹن: امریکی صدر...