Home sticky post 4 بھارت میں سوشل میڈیا پر سنسرشپ میں اضافہ، مودی حکومت تنقید سے خوفزدہ

بھارت میں سوشل میڈیا پر سنسرشپ میں اضافہ، مودی حکومت تنقید سے خوفزدہ

Share
Share

نئی دہلی: انتہا پسند ہندوتوا نظریے کی بنیاد پر برسراقتدار بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت پر تنقید سے خوفزدہ ہو کر مخالف آوازیں دبانے کے الزامات سامنے آ رہے ہیں۔ مبصرین کے مطابق مودی حکومت کی نفرت انگیز پالیسیوں اور ناکام سفارت کاری کو قومی اور بین الاقوامی سطح پر شدید تنقید کا سامنا ہے۔

بھارتی جریدے دی وائر کے مطابق حکومت سوشل میڈیا پر تنقیدی پوسٹس کو آئی ٹی ایکٹ کی دفعہ 69 اے کے تحت بلاک کر رہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ سال کے پہلے چھ ماہ کے دوران سوشل میڈیا سے مواد ہٹانے کے واقعات میں 2023 کے مقابلے میں تقریباً 300 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔

دی وائر کی رپورٹ کے مطابق جریدے کی اپنی دو طنزیہ ویڈیوز اور بانی ایڈیٹر کی ایک ری پوسٹ کو بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارمز ایکس اور انسٹاگرام سے ہٹا دیا گیا۔ اس کے علاوہ متعدد بھارتی صحافیوں، کارٹونسٹوں اور سیاسی ناقدین کی پوسٹس بھی سوشل میڈیا سے ہٹائے جانے کی اطلاعات ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ مودی حکومت کی جانب سے تنقیدی سوشل میڈیا پوسٹس کو بلاک کرنا اظہارِ رائے کی آزادی پر براہ راست حملہ ہے۔ ان کے مطابق حکومت کے آمرانہ اقدامات شفافیت کی کمی کو نمایاں کرتے ہیں اور نام نہاد بھارتی جمہوریت کی حقیقت بھی آشکار ہو رہی ہے۔

ماہرین کا مزید کہنا ہے کہ بھارت میں عوام مودی حکومت کی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کر رہے ہیں جس کے باعث حکومت بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔

Share
Related Articles

ایم ڈی کیٹ 2026 کا شیڈول جاری، داخلہ ٹیسٹ 16 اگست کو ہوگا

پی ایم ڈی سی نے MBBS اور BDS داخلوں کے لیے اہم...

اسرائیلی ڈرون اور فضائی حملوں سے لبنان میں تباہی، 16 افراد شہید

جنوبی لبنان پر شدید بمباری، متعدد افراد زخمی اور لاپتا بیروت: جنوبی...

کینیڈا کی تاریخی کامیابی، قطر کو 6-0 سے شکست

وینکوور: فیفا ورلڈ کپ میں کینیڈا نے پہلی فتح کا جشن منا...

ایران جنگ کے اخراجات، پینٹاگون نے کانگریس سے 80 ارب ڈالر اضافی فنڈز مانگ لیے

واشنگٹن: دفاعی ضروریات کے لیے اضافی بجٹ کا مطالبہ امریکی محکمہ دفاع...