Home sticky post 6 خیبر پختونخوا میں تبدیلی ہماری ترجیح ہے، ہمیں عوام کا ساتھ چاہیے،مولانا فضل الرحمان

خیبر پختونخوا میں تبدیلی ہماری ترجیح ہے، ہمیں عوام کا ساتھ چاہیے،مولانا فضل الرحمان

Share
Share

پشاور:جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا میں تبدیلی ہماری ترجیح ہے، ہمیں عوام کا ساتھ چاہیے، بوٹوں کے حضور بیٹھ کر حکومت نہیں مانگیں گے۔
پشاور میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ حالات بہت خراب ہیں، تازہ خبر تو ہمیشہ بد امنی کی ہی ہوتی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ باجور میں اے این پی کے کارکن کی شہادت بلوجستان میں بد امنی اور سندھ میں بد امنی ہے، ہمیں تو یہ بھی معلوم ہے کہ حکمران شدت پسندوں کو بھتہ دیتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ میری ترجیح ہے کہ صوبے میں تبدیلی آئے، اگر پارٹی کے اندر سے تبدیلی آئے تو بھی ٹھیک ہے، تبدیلی ضروری ہے چاہے وہ باہر سے ہو یا پارٹی کے اندر ہو، بانی پی ٹی آئی عمران خان کے بچے پاکستان آتے ہیں تو کوئی اعتراض نہیں ہے۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ ہمارے دور حکمت میں مکمل امن تھا چاہے آپ جہاں بھی جاتے، کوئی پولیس چوکی تک نہیں تھی، امن امان کے بارے میں تمام پارٹی کانفرنس کال کریں، اس پر تفصیلی بات ہو سکتی ہے، پارٹیوں میں اختلاف رائے پایا جاتا ہے لیکن آپس میں کوئی دشمنی نہیں ہوتی۔

ان کا کہنا تھا کہ تمام پارٹیاں اس گنگا میں بہ گئیں کہ فاٹا انضمام ہو، ہم کہتے رہے کہ یہ ٹھیک نہیں ہے، ہم نے کس کے دباؤ اور اشارے پر یہ کیا؟، آج اس کو واپس کرنا ملکی مفاد ہے، وہ غلط فیصلہ تھا، اس بات کو تمام سیاسی جماعتوں کو تسلیم کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں یقین تھا کہ یہ کامیاب نہیں ہوگا، پشاور ہائی کورٹ یا اسلام آباد کی توسیع کیوں نہیں کرتے فاٹا تک، آج 8 سال ہو گئے ہیں وہاں ایک پٹواری نہیں جا سکتا، فاٹا میں آج بھی کوئی نہیں جا سکتا۔

مولانا فضل الرحمن نے کہا کہ بتایا گیا فاٹا میں لینڈ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، کل گرینڈ جرگہ ہو رہا ہے، ہم فاٹا کے نمائندہ قبائل جرگے کا احترام کرتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ ہمارے صوبے کا پیسا صرف اس لئے ہے کے پارلیمانی سیکرٹری بنائے جائیں اور عیاشی کریں، یہ بھتے دینے والی حکومت ہے، یہ دھاندلی کی پیداوار حکومت ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت صوبائی ہو یا وفاقی، سب بکے ہوئے ہیں، ہم بوٹوں کے حضور بیٹھ کر حکومت نہیں مانگیں گے، ہمیں عوام کا ساتھ چاہیے۔

عمران خان سے متعلق سوال پر ان کا کہنا تھا کہ کوئی سیاست دان جیل میں نہیں ہونا چاہیے مگر سیاست دان جیلوں میں جاتے بھی ہیں، ہمارا مقصد ملک کی ترقی اور خوشحالی ہونا چاہیے۔

Share
Related Articles

ضرورت پڑنے پر ایران کے خلاف کارروائی دوبارہ شروع کی جا سکتی ہے، امریکی وزیرِ دفاع

سنگاپور: امریکی دفاعی پالیسی پر اہم بیان امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ...

گلگت بلتستان کے انتخابی ماحول پر تشویش، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کا چیف جسٹس کو خط

پشاور: آزاد اور شفاف انتخابات کے انعقاد کی درخواست وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا...

رامیپرل دوا کی کھیپ میں خوراک کی خرابی کا انکشاف، برطانیہ میں ہیلتھ الرٹ جاری

لندن: بلڈ پریشر اور گردوں کے مریضوں کے لیے اہم انتباہ برطانیہ...

عالمی اور مقامی مارکیٹ میں سونا مزید مہنگا، چاندی سستی ہوگئی

کراچی: عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمتوں میں اضافے کا...