اسلام آباد: کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب کی صدارت میں منعقد ہوا، جس میں ملک میں اشیائے ضروریہ کی قیمتوں، مہنگائی کی صورتحال اور معاشی اشاریوں کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
اجلاس میں کمیٹی کو بریفنگ دی گئی کہ حالیہ مہینوں میں ضروری اشیاء کی قیمتوں میں بتدریج استحکام دیکھا جا رہا ہے، جبکہ نیشنل پرائس مانیٹرنگ کمیٹی کے ذریعے مارکیٹ نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنایا گیا ہے۔ بریفنگ کے مطابق خوراک اور گھریلو استعمال کی اشیاء کی قیمتیں نسبتاً مستحکم سطح کی جانب بڑھ رہی ہیں۔
کمیٹی نے مجموعی صورتحال پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پالیسی اقدامات اور نگرانی کے نظام کے بہتر نتائج سامنے آ رہے ہیں۔
اجلاس میں مختلف وزارتوں اور اداروں کے لیے ٹیکنیکل سپلیمنٹری گرانٹس کی بھی منظوری دی گئی۔ ان میں کابینہ ڈویژن کے تحت کینابس کنٹرول اینڈ ریگولیٹری اتھارٹی کے لیے 10 کروڑ روپے، بلوچستان حکومت کے لیے 31 کروڑ 10 لاکھ روپے، نیب کے لیے 37 کروڑ 20 لاکھ روپے اور قومی ہاکی ٹیم کے لیے 3 کروڑ روپے شامل ہیں۔
ای سی سی نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز کے واجبات کی ادائیگی کے لیے تقریباً 5 ارب 98 کروڑ روپے کی منظوری بھی دی، جس میں پنشن، طبی اخراجات اور تنخواہوں کی ادائیگی شامل ہے۔
مزید برآں اجلاس میں وزارتِ تجارت کی جانب سے امپورٹ پالیسی آرڈر 2022 میں ترامیم کی منظوری دی گئی، جس کے تحت جبری مشقت سے تیار کردہ اشیاء کی درآمد پر پابندی عائد کی جائے گی۔ ایک پائلٹ پراجیکٹ کے تحت استعمال شدہ گاڑیوں اور آٹو پارٹس کی عارضی درآمد اور مرمت کے بعد دوبارہ برآمد کی اجازت بھی دی گئی۔
گوادر سے متعلق ایک تجویز کے تحت ڈونکی سلاٹر ہاؤس سے گدھے کے گوشت اور کھالوں کی برآمد کی منظوری بھی دی گئی۔