Home sticky post 3 جاپان میں شرحِ پیدائش ریکارڈ کم ترین سطح پر، آبادی کے بڑے بحران کا خدشہ

جاپان میں شرحِ پیدائش ریکارڈ کم ترین سطح پر، آبادی کے بڑے بحران کا خدشہ

Share
Share

ٹوکیو: بچوں کی تعداد میں کمی، بزرگ آبادی میں مسلسل اضافہ

جاپان میں شرحِ پیدائش ایک بار پھر ملکی تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، جس کے باعث دنیا کی چوتھی بڑی معیشت کو آبادی کے ایک سنگین بحران کا سامنا ہے۔ ماہرین کے مطابق آبادی میں مسلسل کمی اور عمر رسیدہ افراد کی بڑھتی ہوئی تعداد مستقبل میں معاشی اور سماجی نظام کے لیے بڑے چیلنجز پیدا کر سکتی ہے۔

جاپان کو کن مسائل کا سامنا ہے؟

آبادی میں کمی کے نتیجے میں جاپان کو متعدد اہم مسائل درپیش ہیں، جن میں شامل ہیں:

  • افرادی قوت کی مسلسل کمی
  • سوشل سیکیورٹی اخراجات میں اضافہ
  • ٹیکس دہندگان کی تعداد میں کمی
  • معاشی ترقی کی رفتار متاثر ہونے کا خدشہ
  • بزرگ آبادی کی نگہداشت کے بڑھتے ہوئے اخراجات

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ رجحان جاری رہا تو آنے والے برسوں میں معیشت پر مزید دباؤ بڑھ سکتا ہے۔

شرحِ زچگی میں مسلسل دسویں سال کمی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جاپان میں شرحِ زچگی (Fertility Rate) میں مسلسل دسویں سال کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

شرحِ زچگی سے مراد ایک خاتون کے اپنے پورے دورِ حیات میں پیدا ہونے والے بچوں کی اوسط تعداد ہے۔ یہ شرح گزشتہ سال کے مقابلے میں مزید کم ہو گئی، جس نے آبادی میں کمی کے خدشات کو مزید گہرا کر دیا ہے۔

پیدائشوں کی تعداد تاریخی کم ترین سطح پر

تازہ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ سال جاپان میں پیدا ہونے والے بچوں کی تعداد تقریباً 15 ہزار کم ہو کر صرف 6 لاکھ 70 ہزار سے کچھ زائد رہ گئی۔

یہ تعداد سال 1899 میں پیدائشوں کا باقاعدہ سرکاری ریکارڈ شروع ہونے کے بعد اب تک کی سب سے کم سطح سمجھی جا رہی ہے۔

اس سے قبل جاری ہونے والے ابتدائی اعداد و شمار میں پیدائشوں کی تعداد 7 لاکھ 6 ہزار بتائی گئی تھی، تاہم بعد میں وضاحت کی گئی کہ ان اعداد میں جاپان میں پیدا ہونے والے غیر ملکی بچوں اور بیرونِ ملک مقیم جاپانی شہریوں کے بچوں کو بھی شامل کیا گیا تھا۔

پیش گوئیوں سے کہیں زیادہ تیز رفتار کمی

آبادی میں کمی کی موجودہ رفتار نے ماہرین کو بھی حیران کر دیا ہے۔

نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف پاپولیشن اینڈ سوشل سکیورٹی ریسرچ نے 2023 میں پیش گوئی کی تھی کہ سال 2040 سے پہلے جاپان میں سالانہ پیدائشوں کی تعداد 6 لاکھ 80 ہزار سے کم نہیں ہوگی۔

تاہم تازہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ یہ حد توقع سے تقریباً 15 سال پہلے ہی عبور ہو چکی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ آبادی کا بحران اندازوں سے کہیں زیادہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

جاپانی معیشت پر ممکنہ اثرات

ماہرین کے مطابق شرحِ پیدائش میں مسلسل کمی کے نتیجے میں:

  • مزدوروں کی دستیابی کم ہو سکتی ہے۔
  • کاروباری اور صنعتی شعبے افرادی قوت کی کمی کا شکار ہو سکتے ہیں۔
  • پنشن اور صحت کے نظام پر مالی دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
  • اقتصادی ترقی کی رفتار سست پڑ سکتی ہے۔
  • مستقبل میں نوجوان آبادی کا تناسب مزید کم ہو سکتا ہے۔

اہم نکات

  • جاپان میں شرحِ پیدائش تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ گئی۔
  • گزشتہ سال صرف 6 لاکھ 70 ہزار سے زائد بچوں کی پیدائش ریکارڈ کی گئی۔
  • شرحِ زچگی میں مسلسل دسویں سال کمی دیکھی گئی۔
  • آبادی میں کمی کی رفتار سرکاری پیش گوئیوں سے زیادہ تیز ثابت ہوئی۔
  • افرادی قوت، ٹیکس نیٹ اور سوشل سیکیورٹی نظام کو بڑے چیلنجز درپیش ہیں۔

نتیجہ

جاپان میں شرحِ پیدائش میں مسلسل کمی اور بزرگ آبادی میں اضافے نے ملک کو ایک اہم آبادیاتی بحران کے دہانے پر لا کھڑا کیا ہے۔ اگر اس رجحان پر قابو نہ پایا گیا تو مستقبل میں معیشت، لیبر مارکیٹ اور سماجی بہبود کے نظام کو مزید سنگین مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق اس چیلنج سے نمٹنے کے لیے مؤثر خاندانی، معاشی اور سماجی پالیسیوں کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔

Share
Related Articles

یورپی یونین کا لبنان کی مسلح افواج کے لیے 100 ملین یورو اضافی امداد کا اعلان

برسلز: لبنانی ریاستی اداروں کو مضبوط بنانے کی کوشش یورپی یونین نے...

عوام کی خدمت ہماری سیاست کا مقصد ہے، امیدوں پر پورا اتریں گے: آصفہ بھٹو زرداری

نگر میں جلسہ عام سے خطاب، نوجوانوں کے روشن مستقبل کا عزم...

جنگی اختیارات کی ووٹنگ پر صدر ٹرمپ برہم، ریپبلکن ارکان کو تنقید کا نشانہ بنا دیا

واشنگٹن: ایوانِ نمائندگان کی ووٹنگ پر صدر ٹرمپ کا ردعمل امریکی صدر...

اسرائیل کے حوالے سے ایران کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی، ایرانی سپریم لیڈر

تہران: دشمن ایران کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے ایرانی...