Home sticky post 5 ملالہ یوسفزئی نے ایک مرتبہ پھر افغان خواتین کے حقوق کے لیے آواز بلندکردی

ملالہ یوسفزئی نے ایک مرتبہ پھر افغان خواتین کے حقوق کے لیے آواز بلندکردی

Share
Share

لندن :نوبیل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے ایک مرتبہ پھر افغان خواتین کے حقوق کے لیے آواز بلند کرتے ہوئے عالمی کھیلوں کے اداروں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جلاوطنی اختیار کرنے پر مجبور افغان خواتین ایتھلیٹس کے لیے کھیل کے میدان میں مواقع پیدا کریں۔
ملالہ نے سی این این اسپورٹس کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں کہا کہ جب ہم افغان خواتین کھلاڑیوں کو کھیلنے کا موقع دیتے ہیں، تو یہ طالبان کے خلاف ایک مزاحمت ہے۔
ملالہ نے کہا کہ جب دنیا بھر میں خواتین کی کھیلوں میں کامیابیوں کا جشن منا رہی تھیں، افغان خواتین فٹبال ٹیم اپنی سرزمین پر کھیلنے سے محروم تھی، یہ دل توڑ دینے والا لمحہ تھا۔
ملالہ کا کہنا تھا کہ ہر بار جب کوئی افغان لڑکی کھیلتی ہے، پریکٹس کرتی ہے یا اپنا حق مانگتی ہے، وہ طالبان کی سخت گیر پالیسیوں کے خلاف مزاحمت کا عملی ثبوت دیتی ہے، یہ بہادری ہے۔
انہوں نے عالمی اداروں جیسے فیفا اور آئی سی سی پر زور دیا کہ وہ صرف بیانات پر اکتفا نہ کریں، بلکہ عملی اقدامات کے ذریعے ان خواتین کھلاڑیوں کو پلیٹ فارم فراہم کریں جو اپنی سرزمین چھوڑنے پر مجبور ہو چکی ہیں۔
ملالہ نے کہا کہ کھیل انہی کھلاڑیوں سے بنتا ہے، اگر وہ نہ ہوں، تو کھیل بھی کچھ نہیں، ہمیں ان کے لیے راستے تلاش کرنے ہوں گے۔
اقوامِ متحدہ کے مطابق طالبان کے 2021ء میں دوبارہ اقتدار میں آنے کے بعد افغانستان دنیا کا سب سے زیادہ خواتین مخالف ملک بن چکا ہے، لڑکیوں کے لیے ثانوی تعلیم بند، خواتین کی یونیورسٹی میں داخلے پر پابندی اور بغیر محرم کے سفر تک کی اجازت نہیں۔
خواتین پارک، جم، اور دیگر عوامی مقامات پر بھی نہیں جا سکتیں اور اکثر انہیں گھروں میں محدود کر دیا گیا ہے۔
طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد افغان خواتین فٹبال ٹیم آسٹریلیا میں پناہ لینے پر مجبور ہو چکی ہے، ملالہ یوسفزئی نے 2023ء کے فیفا ویمنز ورلڈ کپ کے دوران اس ٹیم سے ملاقات کی اور ان کے لیے فیفا سے باقاعدہ شناخت کا مطالبہ کیا۔
فیفا نے حال ہی میں افغان خواتین فٹبال کے لیے ایکشن اسٹریٹجی کا اعلان کیا ہے، تاہم ابھی تک افغان خواتین قومی ٹیم کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا گیا۔
ادھر انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) نے اپریل میں افغان خواتین کرکٹرز کے لیے امدادی فنڈ اور معاونت کا اعلان کیا، مگر انسانی حقوق کی تنظیمیں مطالبہ کر رہی ہیں کہ جب تک افغانستان میں خواتین کو تعلیم اور کھیل کی اجازت نہیں دی جاتی، تب تک مردوں کی ٹیم پر پابندی لگائی جائے۔

Share
Related Articles

اولمپکس میں شرکت کرنے والے ہر ایتھلیٹ کو 10 ہزار ڈالر ملیں گے، آئی او سی کا بڑا اعلان

لوزان: International Olympic Committee نے اولمپکس میں شرکت کرنے والے ایتھلیٹس کے...

اسرائیل نے امریکا سے تل ابیب ایئرپورٹ خالی کرنے کی درخواست کر دی

تل ابیب: اسرائیل نے امریکا سے تل ابیب کے مرکزی بن گورین...

سرکاری ہسپتال میں پیدا ہونے والے ہر بچے کو سونے کی انگوٹھی، تامل ناڈو

تامل ناڈو: بھارتی ریاست تامل ناڈو کی حکومت نے ماں اور بچے...

خواتین کو کیسے لڑکے متوجہ کرتے ہیں؟ اداکارہ نمرہ شاہد نے دلچسپ رائے دے دی

کراچی: پاکستانی شوبز انڈسٹری کی معروف اداکارہ نمرہ شاہد نے خواتین کی...