Home sticky post 4 مودی حکومت کی طرف سے کشمیری تاریخی اور مزاحمتی لٹریچر پر پابندی فسطائیت کی بدترین مثال ہے،سینیٹر شیری رحمان

مودی حکومت کی طرف سے کشمیری تاریخی اور مزاحمتی لٹریچر پر پابندی فسطائیت کی بدترین مثال ہے،سینیٹر شیری رحمان

Share
Share

اسلام آباد:پاکستان پیپلز پارٹی کی نائب صدر سینیٹر شیری رحمان نے مودی حکومت کی طرف سے کشمیری تاریخی اور مزاحمتی لٹریچر پر پابندی کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے فسطائیت کی بدترین مثال قرار دیا ہے۔

اپنے ایک بیان میں شیری رحمان نے کہا کہ یہ اقدام کشمیریوں کی فکری آزادی پر براہ راست حملہ ہے اور بھارت کے غیر جمہوری عزائم کی عکاسی کرتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کتابوں سے ڈرنے والا ملک کھلے عام اپنی ناکامیوں کا اعتراف کر رہا ہے۔

شیری رحمان نے کہا کہ تاریخ کو دبانے سے حقائق نہیں مٹ جاتے ہیں ۔آزادای اظہار کو خاموش کرنا بھارت کے فاشسٹ رجحانات کو بے نقاب کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ نئی دہلی کی پالیسیاں کشمیری نوجوانوں کو فکری غلامی میں دھکیل رہی ہیں جبکہ اس طرح کی پابندیاں بھارت کی عالمی ساکھ کو مزید نقصان پہنچا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ تاریخ میں سچ کو دبانے کی ہر کوشش ناکام ہوئی ہے اور بھارت بھی ناکام ہوگا۔ لٹریچر ضبط کر کے بھارت کشمیریوں کی شناخت کو مٹانا چاہتا ہے لیکن پابندیوں کے ذریعے نظریات کو نہیں روکا جا سکتا۔

Share
Related Articles

امریکی سینیٹر لنزے گراہم 71 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

ریپبلکن رہنما اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی اتحادی طویل سیاسی خدمات...

یورپ میں شدید گرمی کی لہر، جنگلات میں ہولناک آتشزدگی، ہزاروں افراد محفوظ مقامات پر منتقل

فرانس، اسپین، پرتگال اور یونان میں 42 ہزار ایکڑ سے زائد رقبہ...

لنڈا نوسکووا ومبلڈن اوپن خواتین سنگلز کی نئی چیمپئن بن گئیں

ہم وطن کیرولینا موچووا کو شکست دے کر کیریئر کا پہلا گرینڈ...

او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین، تکنیکی سیشنز جاری، مرکزی اجلاس کل ہوگا

57 رکن ممالک کے 190 مندوبین کی شرکت، خواتین کے حقوق، بااختیار...