Home sticky post 4 پاکستان اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے مابین موسمیاتی لچک ،ماحولیاتی پائیداری کے فروغ کے لیے باہمی اشتراک پر اتفاق

پاکستان اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے مابین موسمیاتی لچک ،ماحولیاتی پائیداری کے فروغ کے لیے باہمی اشتراک پر اتفاق

Share
Share

اسلام آباد:پاکستان اور ایشیائی ترقیاتی بینک کے مابین موسمیاتی لچک اورماحولیاتی پائیداری کے فروغ کے لیے باہمی اشتراک پر اتفاق،دونوں فریقین نے موسمیاتی تبدیلی سے لاحق چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک جامع، دوراندیش اور نتیجہ خیز حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔

وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک سے ایشیائی ترقیاتی بینک کے ڈائریکٹر جنرل، برونو کاراسکو، اور اُن کے ہمراہ اعلیٰ سطح کے وفد نے وزارت میں ملاقات کی۔ ملاقات کا مقصد پاکستان میں موسمیاتی لچک اور ماحولیاتی استحکام کے حوالے سے باہمی تعاون کو فروغ دینا تھا۔

دونوں فریقین نے موسمیاتی تبدیلی سے لاحق چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ایک جامع، دوراندیش اور نتیجہ خیز حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ اس ضمن میں ایک مشترکہ قومی حکمتِ عملی اور موسمیاتی پالیسی فریم ورک کی تشکیل پر اتفاق رائے پایا گیا تاکہ پاکستان کی ماحولیاتی لچک میں مؤثر اضافہ ممکن بنایا جا سکے۔
ملاقات میں نوجوانوں کی قیادت میں موسمیاتی اقدامات کو تقویت دینے پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی، جس کے تحت نوجوانوں کو انکیوبیشن، مالی معاونت اور رہنمائی کی سہولیات فراہم کی جائیں گی تاکہ وہ ایسے منصوبے تشکیل دے سکیں جو نہ صرف ماحول دوست ہوں بلکہ عالمی سطح پر مسابقتی حیثیت کے حامل بھی ہوں۔
مزید برآں موسمیاتی مالیات، مشترکہ منصوبہ جات اور سرمایہ کاری سے متعلق امور زیرِ بحث آئے تاکہ پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے وافر وسائل کی دستیابی کو یقینی بنایا جا سکے۔
وفاقی وزیر ڈاکٹر مصدق ملک نے اس امر پر زور دیا کہ محض منصوبہ بندی کافی نہیں بلکہ عملی اقدامات اور ان کے مؤثر نفاذ کے لیے تمام متعلقہ فریقین کی ہم آہنگی ناگزیر ہے۔ انہوں نے اس موقع پر ایشیائی ترقیاتی بینک کے ساتھ ہر مرحلے پر مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی تاکہ طے شدہ اہداف کو مؤثر انداز میں پایۂ تکمیل تک پہنچایا جا سکے۔
دونوں فریقین نے کاربن کریڈٹ کی بنیاد پر شراکت داری کے امکانات کا بھی جائزہ لیا، جس کا مقصد ماحولیاتی کارکردگی اور اخراجات میں کمی کے ثمرات کو مالی اعتبار سے قابل قدر بنانا ہے۔
علاوہ ازیں باہمی علمی منصوبہ جات، موسمیاتی پالیسی پر مبنی قرضہ جاتی سہولیات، صلاحیت سازی پر مبنی ورکشاپس اور عوامی آگاہی مہمات کے انعقاد پر بھی اتفاق کیا گیا تاکہ ادارہ جاتی استعدادِ کار میں اضافہ اور قومی سطح پر موسمیاتی شعور کی ترویج ممکن بنائی جا سکے۔

Share
Related Articles

امریکی سینیٹر لنزے گراہم 71 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

ریپبلکن رہنما اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی اتحادی طویل سیاسی خدمات...

یورپ میں شدید گرمی کی لہر، جنگلات میں ہولناک آتشزدگی، ہزاروں افراد محفوظ مقامات پر منتقل

فرانس، اسپین، پرتگال اور یونان میں 42 ہزار ایکڑ سے زائد رقبہ...

لنڈا نوسکووا ومبلڈن اوپن خواتین سنگلز کی نئی چیمپئن بن گئیں

ہم وطن کیرولینا موچووا کو شکست دے کر کیریئر کا پہلا گرینڈ...

او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین، تکنیکی سیشنز جاری، مرکزی اجلاس کل ہوگا

57 رکن ممالک کے 190 مندوبین کی شرکت، خواتین کے حقوق، بااختیار...