Home تازہ ترین پاکستان اور بیلاروس کے درمیان صنعتی و ٹیکسٹائل تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق

پاکستان اور بیلاروس کے درمیان صنعتی و ٹیکسٹائل تعاون کو فروغ دینے پر اتفاق

Share
Share

اسلام آباد:وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے بیلاروس کے سفیر اے میٹیلیٹسہ کی ملاقات ہوئی جس میں پاکستان-بیلاروس ٹیکسٹائل جوائنٹ وینچر کو خصوصی اہمیت دی گئی۔ وزیر تجارت نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے چیلنجز کے پیشِ نظر بیلاروس کی مالی اور تکنیکی شمولیت اس شراکت داری کو حقیقت کا روپ دے سکتی ہے۔
وفاقی وزیر تجارت جام کمال خان سے بیلاروس کے سفیر اے میٹیلیٹسہ نے ملاقات کی جس میں دو طرفہ تجارتی و صنعتی تعاون کو وسعت دینے، ٹیکسٹائل سیکٹر میں شراکت داری، کاٹن کی فراہمی کے متبادل ذرائع اور افرادی قوت کے تبادلے جیسے اہم نکات زیرِ غور آئے۔
ملاقات میں بلوچستان میں ایک بیلاروس کے تعاون سے چلنے والے صنعتی منصوبے کی بحالی پر بھی تبادلہ خیال ہوا، جو ماضی میں ڈی ایم وی اور اومنی گروپ کے تحت کام کر رہا تھا۔ وزیر تجارت نے کہا کہ حکومت موجودہ انفراسٹرکچر کو بروئے کار لا کر فوری نتائج حاصل کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
وزیر موصوف نے بیلاروس کی زرعی مشینری اور ٹریکٹر سازی میں طویل المدتی شراکت کو سراہا اور پاکستانی اداروں جیسے ایچ آئی ٹی اور شہزاد گروپ کی تجاویز کا بھی ذکر کیا۔
ملاقات میں پاکستان-بیلاروس ٹیکسٹائل جوائنٹ وینچر کو خصوصی اہمیت دی گئی۔ وزیر تجارت نے کہا کہ پاکستان میں سرمایہ کاری کے چیلنجز کے پیشِ نظر بیلاروس کی مالی اور تکنیکی شمولیت اس شراکت داری کو حقیقت کا روپ دے سکتی ہے۔
اس سلسلے میں بیلاروس کے وفد اور پاکستان کے ایڈیشنل سیکریٹری نے ممکنہ سائٹ کا دورہ بھی کیا ہے۔ نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی کے ساتھ تکنیکی مشاورت اور مشینری کا تجزیہ بھی زیرِ غور آیا۔
پاکستان میں کپاس کی قلت پر بھی گفتگو ہوئی۔ موجودہ پیداوار 5.5 ملین گانٹھوں تک محدود ہے، جبکہ طلب 13 سے 15 ملین گانٹھوں تک ہے۔ امریکا کے ساتھ تجارت میں ممکنہ رکاوٹوں کے باعث تاجکستان اور قازقستان جیسے متبادل ذرائع پر غور کیا جا رہا ہے۔
سفیر میٹیلیٹسہ نے پاکستان کے ساتھ ٹیکنالوجی ٹرانسفر، انجینئرنگ سپورٹ اور ہنر مند افرادی قوت کی تربیت کے لیے بیلاروس کی دلچسپی کا اظہار کیا۔ انہوں نے آئندہ تجارتی نمائشوں، مشترکہ فورمز اور ادارہ جاتی روابط کے ذریعے تعلقات کو مزید مستحکم بنانے پر زور دیا۔
وزیر تجارت نے مشترکہ ورکنگ گروپ کی آن لائن میٹنگ کی تجویز کی حمایت کی اور کہا کہ معاشی امور ڈویژن اس پر پیش رفت کر رہا ہے۔ افرادی قوت کے تبادلے کے ضمن میں انہوں نے بتایا کہ اس وقت تقریباً 200 پاکستانی ورکرز بیلاروس میں کام کر رہے ہیں، جن کی تعداد کو بڑھایا جا سکتا ہے۔
ملاقات میں بیلاروس کی صنعتی مشینری جیسے ٹرک، ڈمپر، کھدائی مشینیں اور الیکٹرک بسز کی کارکردگی کا بھی جائزہ لیا گیا، جو پاکستان میں کوئلہ اور سیمنٹ کے شعبوں میں مؤثر ثابت ہوئی ہیں۔
ملاقات میں وزیر تجارت نے تمام شعبوں میں دو طرفہ تعاون کو مزید مضبوط بنانے، ادارہ جاتی روابط بڑھانے اور وقت پر فالو اپ کو یقینی بنانے پر زور دیا۔
انہوں نے کہاکہ ہم بیلاروس کو نہ صرف ایک اسٹریٹجک شراکت دار سمجھتے ہیں بلکہ ایک ایسا قابلِ اعتماد ساتھی بھی جو پاکستان کی صنعتی صلاحیت میں اضافے اور باہمی اقتصادی مواقع پیدا کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔

Share
Related Articles

اگر کشیدگی میں اضافہ جاری رہا تو اس کا سب سے زیادہ نقصان ایران کو ہوگا،سعودی عرب

ریاض:سعودی عرب نے مملکت اور خلیج تعاون کونسل کی دیگر ریاستوں کے...

کفایت شعاری کے اضافی اقدامات کی منظوری، کابینہ کا دو ماہ کی تنخواہ نہ لینے کا فیصلہ

اسلام آباد:وزیراعظم شہباز شریف نے جنگی صورتحال کے باعث کفایت شعاری کے...

اگر پٹرول کا اسٹاک تھا تو پاکستان میں قیمت 20 فیصد کیوں بڑھائی گئی؟،بیرسٹر گوہر

اسلام آباد:چیئرمین پاکستان تحریک انصاف بیرسٹر گوہر نے کہا ہے کہ وفاقی...