لندن:دولتِ مشترکہ کے وزرائے خارجہ کا 26واں اجلاس 8 مارچ 2026 کو لندن میں منعقد ہوا، جس میں دولتِ مشترکہ کے رکن ممالک کے وزرائے خارجہ اور سینئر نمائندگان نے شرکت کی۔ اجلاس کا مقصد 2026 سے قبل ترجیحات کا تعین کرنا اور ایک مضبوط اور مؤثر دولتِ مشترکہ کے لیے تجاویز پر غور کرنا تھا۔
پاکستان کے برطانیہ میں ہائی کمشنر ڈاکٹر محمد فیصل نے نائب وزیر اعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کی نمائندگی کرتے ہوئے پاکستان کی جانب سے اجلاس میں شرکت کی۔ سینیٹر اسحاق ڈار موجودہ علاقائی صورتحال کے باعث اجلاس میں شرکت نہ کر سکے۔
اپنے خطاب میں ہائی کمشنر ڈاکٹر محمد فیصل نے ایک ایسے دولتِ مشترکہ کی فوری ضرورت پر زور دیا جو بدلتے ہوئے اور پیچیدہ عالمی ماحول میں زیادہ فعال اور اہمیت کے حامل ہو۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ عالمی صورتحال میں تقسیم، جغرافیائی سیاسی تنائو اور روایتی اداروں پر بڑھتا ہوا دباؤ نمایاں ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ لمحہ دولتِ مشترکہ کے لیے ایک چیلنج بھی ہے اور ایک موقع بھی، کہ وہ اپنی اہمیت اور مشترکہ مقصد کو ازسرنو اجاگر کرے۔ تاہم ہائی کمشنر ڈاکٹر محمد فیصل نے تنظیموں کے اندر نئے طاقت کے مراکز قائم کرنے کے رجحان سے بھی خبردار کیا۔
اصلاحات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے ہائی کمشنر ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا کہ سیکرٹری جنرل کی اصلاحاتی تجاویز پر رکن ممالک کو سنجیدگی اور تعمیری انداز میں غور کرنا چاہیے۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دولتِ مشترکہ کے وزرائے خارجہ اور رہنماؤں کو نہ صرف ادارہ جاتی اصلاحات کی تشکیل میں بلکہ رکن ممالک کے درمیان بامعنی تعاون کو فروغ دینے میں بھی فعال کردار ادا کرنا چاہیے۔
پاکستان کے مؤقف کو اجاگر کرتے ہوئے ہائی کمشنر نے کہا کہ دولتِ مشترکہ کو ایسے عملی نتائج پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے جو براہِ راست اس کے عوام کے لیے فائدہ مند ہوں۔ ان میں معاشی استحکام کو مضبوط بنانا، تجارت میں سہولت فراہم کرنا، سرمایہ کاری کو فروغ دینا، قرضوں کے پائیدار انتظام کے مسائل سے نمٹنا اور پائیدار ترقی کو آگے بڑھانا شامل ہیں۔ انہوں نے رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ بدلتی ہوئی عالمی صورتحال میں اس موقع سے فائدہ اٹھائیں اور دولتِ مشترکہ کو یکجہتی اور مشترکہ خوشحالی کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم بنائیں۔
ہائی کمشنر ڈاکٹر محمد فیصل نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان دولتِ مشترکہ کے دیگر رکن ممالک کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے گا تاکہ بامعنی اصلاحات اور عملی اقدامات کے ذریعے اس تنظیم کو جدید، مضبوط اور اپنے شہریوں کی ضروریات کے مطابق مؤثر بنایا جا سکے۔