Home sticky post 4 وفاقی حکومت سے کچی آبادی سے متعلق پالیسی رپورٹ طلب

وفاقی حکومت سے کچی آبادی سے متعلق پالیسی رپورٹ طلب

Share
Share

اسلام آباد: سپریم کورٹ کے آئینی بنچ نے کچی آبادی کیس میں وفاقی حکومت سے کچی آبادی سے متعلق پالیسی رپورٹ 2 ہفتوں میں طلب کر لی۔
جسٹس امین الدین کی سربراہی میں 7 رکنی آئینی بنچ نے کچی آبادی کیس کی سماعت کی۔
سماعت کے آغاز پر جسٹس امین الدین خان نے کہا کہ کچی آبادی کو ریگولیٹ کرنے کا اختیار صوبوں اور لوکل گورنمنٹ کا ہے۔
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ صوبائی اختیار پر وفاقی حکومت کیا قانون سازی کر سکتی ہے، پہلے تو یہ بتایا جائے کچی آبادی کیا ہوتی ہے، بلوچستان میں تو سارے گھر کچے ہیں۔
جسٹس حسن اظہر رضوی نے کہا کہ قبضہ گروپ ندی نالوں کے کنارے کچی آبادی بنا لیتے ہیں، عوامی سہولیات کے پلاٹ پر کچی آبادی مکانات بن جاتے ہیں، حکومت نے کچی آبادی کو روکنے کیلئے کیا اقدامات اٹھائے ہیں۔
وکیل سی ڈی اے نے کہا کہ سب سے پہلے تو کچی آبادی کی تعریف طے کی جائے، سی ڈی اے نے دس کچی آبادیوں کو نوٹیفائی کر رکھا ہے۔
جسٹس جمال مندوخیل نے کہا کہ ان کچی آبادی کے علاوہ کوئی قبضہ ہے تو کارروائی کرے، غیر قانونی قبضہ چھڑانے کے قوانین موجود ہیں۔
وکیل سی ڈی اے نے کہا کہ عدالت نے قبضہ چھڑانے کیخلاف حکم امتناع دے رکھا ہے۔
جسٹس محمد علی مظہر نے کہا کہ حکم امتناع ہے تو عدالت سے اس کو ختم کرائیں، تجاوزات کیسے بن جاتی ہے، تجاوزات کی تعمیر میں ادارے کے لوگ بھی ملوث ہوتے ہیں، سب سے پہلے چھپر ہوٹل بنتا ہے، پھر وہاں آہستہ آہستہ آبادی بن جاتی ہے۔

Share
Related Articles

امریکی سینیٹر لنزے گراہم 71 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

ریپبلکن رہنما اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی اتحادی طویل سیاسی خدمات...

یورپ میں شدید گرمی کی لہر، جنگلات میں ہولناک آتشزدگی، ہزاروں افراد محفوظ مقامات پر منتقل

فرانس، اسپین، پرتگال اور یونان میں 42 ہزار ایکڑ سے زائد رقبہ...

لنڈا نوسکووا ومبلڈن اوپن خواتین سنگلز کی نئی چیمپئن بن گئیں

ہم وطن کیرولینا موچووا کو شکست دے کر کیریئر کا پہلا گرینڈ...

او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین، تکنیکی سیشنز جاری، مرکزی اجلاس کل ہوگا

57 رکن ممالک کے 190 مندوبین کی شرکت، خواتین کے حقوق، بااختیار...