اسلام آباد:سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن ک صدر میاں رؤف عطا نے وفاقی حکومت سے اپیل کی ہے کہ بلوچستان کی صورت حال پر سینئر سیاست دانوں پر مشتمل بااختیار اور مینڈیٹ کی حامل کمیٹی تشکیل دی جائے اور بلاتاخیر بلوچستان روانہ کردی جائے۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن سے جاری اعلامیے کے مطابق صدر سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن میاں محمد رؤف عطا نے سپریم کورٹ میں چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس یحییٰ آفریدی سے ملاقات کی۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ صدر سپریم کورٹ بار نے چیف جسٹس کو بلوچستان کی صورت حال سے آگاہ کیا اور بتایا کہ بلوچستان میں آئین کے تحت دیے گئے بنیادی حقوق فی الوقت ناپید ہو چکے ہیں اور اس قسم کے حالات نے صوبے میں امن و امان کی صورت حال مزید خراب کر دی ہے۔
صدر سپریم کورٹ بار نے کہا کہ اس کے نتیجے میں صوبے میں عوامی بے چینی، باغیانہ سرگرمیوں میں اضافہ اور سڑکوں کی بندش نے عام شہریوں کی روزمرہ زندگی براہ راست متاثر کی ہے۔
اعلامیے کے مطابق صدر سپریم کورٹ بار نے اپنے ان مشاورتی ملاقاتوں کی تفصیلات بھی شیئر کیں جو بلوچستان کے مسائل پر وسیع البنیاد قومی اتفاق رائے حاصل کرنے کے مقصد سے کی جا رہی ہیں۔
صدر سپریم کورٹ بار نے کہا کہ عمومی طور پر سیاسی اشرافیہ کی اکثریت اس بات پر متفق ہے کہ ان مسائل کا حل جمہوری انداز، سیاسی مکالمے اور مذاکرات کے ذریعے بلوچستان کے عوام کے حقیقی مسائل کو سننے اور حل کرنے میں ہے۔
سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے مطابق اس موقع پر چیف جسٹس یحییٰ آفریدی نے ان کوششوں کو سراہتے ہوئے صدر سپریم کورٹ بار کو قومی اتفاق رائے کی تشکیل کے لیے کی گئی کاوشوں پر خراجِ تحسین پیش کیا۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ چیف جسٹس نے کہا کہ بنیادی حقوق کی پاسداری کسی بھی جمہوری معاشرے کی بنیاد ہوتی ہے اور اس بات پر زور دیا کہ بنیادی حقوق کو ہر سطح پر برقرار رکھا جانا چاہیے۔
بلوچستان کی صورت حال کے حوالے سے صدر سپریم کورٹ بار نے ایک بار پھر وفاقی حکومت سے اپیل کی ہے کہ وہ فوری طور پر سینئر سیاست دانوں پر مشتمل ایک کمیٹی نامزد کرے جس سے مکمل اختیار اور مینڈیٹ حاصل ہو اور اس کمیٹی کو بلا تاخیر بلوچستان روانہ کیا جائے۔
چیف جسٹس یحییٰ آفریدی سے ملاقات کے بعد سپریم کورٹ بار سے جاری اعلامیے میں کہا گیا کہ ایسی کمیٹی کو چاہیے کہ وہ بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل اور دیگر احتجاجی سیاسی دھڑوں کے ساتھ بامقصد مکالمہ شروع کرے تاکہ ان کے حقیقی مسائل کو گفتگو اور مذاکرات کے ذریعے حل کیا جا سکے قبل اس کے کہ بہت دیر ہو جائے۔