Home sticky post 5 دہشت گرد تنظیموں کو چھوڑ کر ہتھیار ڈالنے والے کمانڈرز کا خود کو ریاست پاکستان کے سپرد کرنے کا اعلان

دہشت گرد تنظیموں کو چھوڑ کر ہتھیار ڈالنے والے کمانڈرز کا خود کو ریاست پاکستان کے سپرد کرنے کا اعلان

Share
Share

کوئٹہ:مختلف دہشت گرد تنظیموں کو چھوڑ کر ہتھیار ڈالنے والے کمانڈرز نے کوئٹہ میں صوبائی وزرا اور ڈی آئی جی سی ٹی ڈی بلوچستان کے ہمراہ نیوز کانفرنس کی اور خود کو ریاست پاکستان کے سپرد کرنے کا اعلان کیا۔دہشت گرد کمانڈر نجیب اللہ نے کہا کہ علیحدگی پسند تنظیموں کا مقصد بلوچ قوم کے جذبات سے کھیل کر انہیں پاکستان سے لڑانا تھا
ہتھیار ڈالنے والے اہم دہشتگرد کمانڈرز میں نجیب اللہ عرف درویش عرف آدم، عبدالرشید عرف خدائیداد عرف کماش اور دیگر شامل ہیں۔
دہشت گرد کمانڈر نجیب اللہ نے کہا کہ اْس نے ریاست پاکستان اور انکی سکیورٹی فورسز کو بے پناہ نقصان پہنچایا، علیحدگی پسند تنظیموں کا مقصد بلوچ قوم کے جذبات سے کھیل کر انہیں پاکستان سے لڑانا تھا، میری تنظیم سے وابستگی 14 سال کی نا پختہ عمر میں ہوئی، پاکستان سے نفرت میرے دماغ میں بھری گئی، کم علمی اور شعور نہ ہونے کی وجہ سے ریاست کو نقصان پہنچایا۔
دہشت گرد کمانڈر نجیب اللہ نے کہا کہ میری ملاقات ہمسایہ ملک کی انٹیلی جنس سے ہوئی اور میں نے انکے سامنے کئی مفید مشورے رکھے لیکن انہوں نے میری سرزنش کردی اور کہا ہمیں آپ کی آزادی سے کوئی سروکار نہیں ہم آپ کو صرف پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کیلئے سپورٹ کریں گے، تب میری آنکھیں کھل گئیں اور نام نہاد آزادی کی پٹی میری آنکھوں سے ہٹ گئی۔
دہشت گرد کمانڈر نے نجیب اللہ کہا کہ بلوچ ا?زادی پسند لیڈران بیرون ملک بیٹھ کر عیاشی کی زندگی بسر کررہے ہیں جبکہ پہاڑوں پر لڑنے والے بلوچوں کو دو وقت کی روٹی اور ادویات بھی میسر نہیں، بلوچ کمانڈرز یہاں پر لوگوں کو اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کررہے ہیں، ان سب کے بچے بیرون ملک اعلیٰ تعلیم حاصل کررہے ہیں۔
نجیب اللہ نے کہا کہ بلوچ مسلح تحریک گینگ وار کی شکل اختیار کرچکی ہے جہاں ذاتی اور گروہی مفادات کو ترجیح دی جاتی ہے، سینئر اور جونیئر کمانڈرز اندرونی سازشوں کا شکار ہورہے ہیں اور آپس میں ایک دوسرے کو مارا جارہا ہے۔

نجیب اللہ نے کہا کہ حربیار مری اور مہران مری دونوں بھائی جن پر کرپشن کی وجہ سے اختلافات ہوتے ہیں اور بی ایل اے سے یو بی اے بنتا ہے، ان دونوں گروپوں کی لڑائی ہوجاتی ہے جس میں آپس میں ہی ایک دوسرے کو مارا جارہا ہے، مرنے والا ایک عام بلوچ ہوتا ہے مگر دونوں بھائیوں کو نقصان تک نہیں پہنچتا۔
صوبائی وزیر ظہور احمد بلیدی نے کہا کہ بوچستان میں دہشت گردی کا گھناؤنا کھیل کھیلا جارہا ہے، دہشت گردوں کے ہینڈلرز معصوم بچوں کو سبز باغ دکھاکر پہاڑوں پر لے جاتے ہیں، حکومت ہتھیار ڈالنے والوں کا کھلے دل سے خیر مقدم کرتی ہے، پہاڑوں پر بیٹھے گمراہ افراد کیلئے راستہ کھولا ہے۔

Share
Related Articles

امریکی سینیٹر لنزے گراہم 71 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

ریپبلکن رہنما اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی اتحادی طویل سیاسی خدمات...

یورپ میں شدید گرمی کی لہر، جنگلات میں ہولناک آتشزدگی، ہزاروں افراد محفوظ مقامات پر منتقل

فرانس، اسپین، پرتگال اور یونان میں 42 ہزار ایکڑ سے زائد رقبہ...

لنڈا نوسکووا ومبلڈن اوپن خواتین سنگلز کی نئی چیمپئن بن گئیں

ہم وطن کیرولینا موچووا کو شکست دے کر کیریئر کا پہلا گرینڈ...

او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین، تکنیکی سیشنز جاری، مرکزی اجلاس کل ہوگا

57 رکن ممالک کے 190 مندوبین کی شرکت، خواتین کے حقوق، بااختیار...