اسلام آباد:ڈائریکٹر جنرل آئی ایس پی آر لیفیٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ کابل میں کیے جانے والے حالیہ حملے کا اصل ٹارگٹ افغان طالبان کے گولہ بارود اور ہتھیاروں کے علاوہ ڈرون طیاروں کا ایک ڈپو تھا۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ یہ گولہ بارود پھٹنے سے جو دھماکے ہوئے انہیں پورے شہر نے دیکھا، یہ کارروائی بھی افغان طالبان کے ان 53 حملوں کے جواب میں کی گئی جو انہوں نے پاکستان میں ہماری چیک پوسٹوں پر کیے۔
انہوں نے کہا کہ اس حملے میں سویلینز کی ہلاکتوں کا پروپیگنڈا جھوٹ ہے، طالبان کے اکثر جنگجو وردی نہیں بلکہ سویلین لباس پہنتے ہیں اور طالبان منشیات کے عادی افراد کو خودکش حملوں کیلئے بھی استعمال کرتے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ افغان طالبان نے کچھ دن قبل پاکستان کے خلاف جو ڈرون استعمال کیے وہ انہیں بھارت کی طرف سے فراہم کیے جا رہے ہیں، ہماری افغان عوام سے کوئی لڑائی نہیں انہیں تو خود دہشتگردوں نے یرغمال بنا رکھا ہے۔
لیفیٹننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، دہشت گردی کے پیچھے بھارت کا ہاتھ ہے، ترلائی مسجد دھماکے میں معصوم لوگ شہید ہوئے، دہشت گرد افغانستان سے آیا وہاں پر تربیت حاصل کی تھی، وانا کیڈٹ کالج میں حملہ کیا گیا، ہلاک پانچوں دہشت گرد افغان شہری تھے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس، شہریوں، مساجد پر حملے ہو رہے ہیں، دہشت گرد افغانستان سے آرہے ہیں، ان دہشت گرد تنظیموں کی قیادت افغانستان میں موجود ہے، خارجی نور ولی، خارجی بشیر زیب، خارجی گل بہادر افغانستان میں ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ شروع انہوں نے کیا ہے، پاکستان نے جواب دیا ہے، ہم دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر حملے کرتے ہيں تو یہ اپنی ملیشیا لے کر وہاں پہنچ جاتے ہیں، ہم نے ان کی 81 لوکیشنز پر اسٹرائیک کی ہیں اور یہ سارے حملے دہشت گردوں کو سپورٹ کرنے والے انفرا اسٹرکچر پر کیے گئے ہیں ، یہ وہ تمام انفرا اسٹرکچر ہيں جہاں سے پاکستان کے خلاف دہشت گردوں کو سپورٹ مل رہی تھی۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہم نے افغانستان پر جنگ مسلط نہیں کی، دہشت گردی کے خلاف جنگ ہم پر مسلط کی گئی ہے، دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہزاروں پاکستانی شہید ہو چکے ہیں، ہم دہائیوں سے دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑ رہے ہیں۔
لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا ہے کہ افغان طالبان رجیم نے دہشت گردوں کو اپنے پاس چھپا کر رکھا ہوا ہے، حتیٰ کہ سرکاری عمارتوں میں بھی دہشت گرد چھپے ہوئے ہیں۔
اُن کا کہنا ہے کہ پاکستان بات چیت کے لیے تیار ہے لیکن پہلے دہشت گردوں کو پاکستان کے حوالے کرو اور اپنے ملک میں دہشت گردی کے مراکز کو ختم کرو، افغان طالبان کو فیصلہ کرنا ہے کہ ان کے لیے دہشت گردی اہم ہے یا امن، افغان طالبان کو فیصلہ کرنا ہے کہ اُن کے لیے ٹی ٹی پی اہم ہے یا پاکستان، پہلے ہم جب بات کرتے تھے تو یہ کہتے تھے صبر کریں اب یہ کریں صبر، تم یہاں پاکستان کے بچوں کو شہید کرو اور ہم تمہارے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کریں؟
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ پاکستان نے کب بات چیت سے انکار کیا، ہم نے تو کئی بار ان سے ہر فورم پر بات کی، ہم دوست ممالک سے کہتے ہیں آپ گارنٹی دیں، دنیا میں کیا کوئی ان کی گارنٹی دے سکتا ہے، اس دہشتگردی میں منشیات بھی کردار ادا کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلام میں کہاں لکھا ہے کہ دہشتگردی کریں یا خودکش حملے کریں، اسلام میں کہاں لکھا ہے کہ خواتین سے جانوروں کی طرح سلوک کریں، افغان طالبان رجیم کی دنیا میں کون گارنٹی دے سکتا ہے؟ کسی کو کسی صورت اجازت نہیں دی جا سکتی کہ پاکستان میں دہشتگردی کرے۔
ترجمان پاک فوج نے کہا کہ پاک افغان سرحد پر ہونے والے اسمگلنگ سے بھی ملک کو نقصان ہوتا تھا، کراس بارڈر دہشتگردی میں کمی آئی ہے، اسمگلنگ کم ہوئی ہے، اس آپریشن کے ذریعے دہشتگردی کی قیمت اب وہ بھی ادا کر رہے ہیں جو اس کے ذمہ دار ہیں، پاکستان ایک ذمہ دار ریاست ہے، یہ ہمارے بازاروں اور مساجد میں دہشتگردی کرتے ہیں۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ہمیں پتا ہے کہ افغان بہن بھائی بھی اس طالبان رجیم کے ہاتھوں مجبور ہیں، اب یہ خود اور اپنے دہشتگردوں کو لے کر ادھر ادھر چھپتے رہتے ہیں، اب یہ افغان طالبان اور دہشتگرد دوسری رات ایک جگہ نہیں گزارتے، آپریشن میں افغان طالبان رجیم کی 44 چیک پوسٹوں پر قبضہ کیا گیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ افغان طالبان رجیم کو اب اپنی پڑی ہوئی ہے، دہشتگردی کے خلاف 200 سے زائد آپریشن روز پاکستان میں بھی کیے جا رہے ہیں، دہشتگرد سوشل میڈیا پر بھارتی اکاؤنٹس کے ذریعے مواد چلاتے ہیں۔