Home sticky post 5 حماس کے بغیر مسئلہ فلسطین حل نہیں ہو سکتا کیونکہ حماس اصل فریق ہے،مولانا فضل الرحمان

حماس کے بغیر مسئلہ فلسطین حل نہیں ہو سکتا کیونکہ حماس اصل فریق ہے،مولانا فضل الرحمان

Share
Share

لاہور:جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ جب تک فلسطینی فیصلہ نہ کریں تو زبردستی فیصلہ مسلط نہیں کیا جا سکتا اورحماس کے بغیر مسئلہ فلسطین حل نہیں ہو سکتا کیونکہ حماس اصل فریق ہے۔

جمعیت علمائے اسلام پاکستان کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت سب سے اہم سوال پوری دنیا میں مسئلہ فلسطین ہے، مسئلہ فلسطین کے معاملے پر بانی پاکستان نے اسرائیل کے وجود کو عرب دنیا کی پیٹھ میں خنجر قرار دیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل ایک ناجائز ریاست ہے اسے کبھی قبول نہیں کریں گے، آج امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پوری دنیا کے مسائل کا مالک بن رہا ہے اور ڈنڈا اٹھا کر بات منواتا ہے یہ روش نہ اخلاقی ہے نہ سیاسی ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ جب تک فلسطین کے مسئلہ پر خود فلسطینی فیصلہ نہ کریں تو زبردستی فیصلہ مسلط نہیں کیا جا سکتا، دو ریاستی حل کی بات تو کریں اسرائیل کو فلسطین اور فلسطینی اسرائیل کو قبول نہیں کررہے۔

ان کا کہنا تھا کہ دو ریاستی حل کو فلسطینیوں پر تھونپا نہیں جا سکتا، اگر کچھ واقعات کی بنیاد پر سردار حسین کو انسانی مجرم قرار دے کر پھانسی لگایا جا سکتا ہے جبکہ ایک لاکھ فلسطینی شہید ہوئے اور جو بھوک، ادویات کی کمی اور بیماریوں سے شہید ہوئے ان کی تعداد لاکھوں ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا نے حماس کو لاتعلق کیا ہوا ہے حالانکہ وہ تو اصل فریق ہے، حماس کے بغیر مسئلہ فلسطین حل نہیں ہو سکتا، آج ٹرمپ اور نیتن یاہو کا المیہ ہے یہ اسرائیل کی توسیع کو فارمولا تو ہو سکتا ہے لیکن فلسطین کی توسیع کا معاملہ نہیں ہو سکتا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی نے دو ریاستی حل دیا بھی تو آزادی فلسطین جس کا دارلحکومت بیت المقدس ہوگا، حکمرانوں میں حکمرانی کی صلاحیت نہیں ہے کہ کیسے عوامی حقوق کی بات کی جاتی ہے اور کن رویوں کی ضرورت ہو۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ یہ مذاکرات کی ٹیبل پر ہی بات ہو گی، نوبل انعام نہیں ٹرمپ کو جنگ کا انعام دینا چاہیے، وہ انسانی مجرم ہے معافی کافی نہیں ہے کیونکہ لاکھوں فلسطینیوں کو شہید کردیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ فلسطین کے بغیر مسئلہ حل کرنے کی کوشش ہے، کہتے ہیں کہ فلسطین نے زمینیں فروخت کی ہے کیسے کہہ سکتے ہیں، تاریخ کو جھٹلایا جا رہا ہے۔

سربراہ جمعیت علمائے اسلام نے کہا کہ مسئلہ فلسطین کےلیے پاک-سعودی دفاعی مؤثر نہیں ہو سکتا، نوبل انعام امن کا ممکن نہیں ہے جنگ کا نوبل انعام ٹرمپ کےلیے ہوسکتا ہے، قطر سے کس لیے امریکا نے معافی مانگی یا فلسطینیوں کے قتل عام پر معافی مانگتا ہے، اہل فلسطین کے لیے معافی کافی نہیں ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حکومت وقت کا دارو مدار اسٹیبلشمنٹ پر ہے، فلسطینیوں کی مرضی کے خلاف حل کی کوششیں کئی عرصے سے جاری ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک ایک سفارش کی نفی کرکے اسرائیلی ریاست بنائی گئی، تاریخ و حقائق کو جھٹلایا جا رہا ہے کہ فلسطینیوں نے اپنی زمینیں اسرائیل کو فروخت کیں۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ ذاتی اندازہ ہے حکمرانوں پر بھارت کی جنگ سوار ہے کہ امریکا بھارت کی طرف نہ چلا جائے، سیاسی جماعتیں ہوں یا حکمران جماعتیں مسئلہ فلسطین کو وہ مقام نہیں دے رہیں جو ملنا چاہیے لیکن پاکستان میں کوئی بھی اسرائیل کو تسلیم کرنے کا نہ سوچے۔

Share
Related Articles

وزیراعظم کی زیر صدارت علاقائی صورتحال کے تناظر میں ملکی معیشت پر جائزہ اجلاس،اہم فیصلے

اسلام آباد:وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت علاقائی صورتحال کے تناظر...

سرکاری و نجی اداروں میں 50 فیصد ملازمین کو ورک فرام ہوم، ہفتے میں چار دن کام ہوگا، وزیراعظم

اسلا م آباد:وزیراعظم شہباز شریف نے مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورت حال...

محکمہ موسمیات کی خیبرپختونخوا کے بالائی علاقوں میں بارش کی پیشگوئی

محکمہ موسمیات نےخیبرپختونخوا کے بالائی علاقوں میں بارش کی پیش گوئی کردی...