واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا نیٹو پر دنیا کے کسی بھی دوسرے رکن ملک کے مقابلے میں سب سے زیادہ مالی وسائل خرچ کرتا ہے، لیکن اس بھاری اخراجات کے باوجود امریکا کو اس کا خاطر خواہ فائدہ حاصل نہیں ہوتا۔
سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نیٹو کے لیے 999 ارب ڈالر خرچ کرتا ہے، جبکہ دیگر رکن ممالک اس کے مقابلے میں کہیں کم مالی تعاون فراہم کرتے ہیں۔
انہوں نے اعداد و شمار بتاتے ہوئے کہا کہ برطانیہ 90.5 ارب ڈالر، فرانس 66.5 ارب ڈالر، اٹلی 48.8 ارب ڈالر اور پولینڈ 44.3 ارب ڈالر نیٹو پر خرچ کرتے ہیں، جبکہ جرمنی سمیت کئی دیگر ممالک کا دفاعی بجٹ اس سے بھی کم ہے۔
صدر ٹرمپ نے اس صورتحال کو "انتہائی مضحکہ خیز” قرار دیتے ہوئے کہا کہ امریکا پر غیر متناسب مالی بوجھ ڈالا جا رہا ہے، جس پر نظرثانی کی ضرورت ہے۔
انہوں نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ آبنائے ہرمز سے اس وقت ریکارڈ تعداد میں بحری جہاز گزر رہے ہیں، جو عالمی بحری تجارت کی بحالی کی نشاندہی کرتا ہے۔
اہم نکات
- صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکا نیٹو پر سب سے زیادہ اخراجات کرتا ہے۔
- ٹرمپ کے مطابق امریکا نیٹو کے لیے 999 ارب ڈالر خرچ کرتا ہے۔
- برطانیہ، فرانس، اٹلی اور پولینڈ کے دفاعی اخراجات امریکا سے نمایاں طور پر کم ہیں۔
- ٹرمپ نے نیٹو پر مالی بوجھ کو امریکا کے لیے غیر منصفانہ قرار دیا۔
- صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی آمدورفت معمول پر آنے کا بھی ذکر کیا۔
نتیجہ
صدر ٹرمپ نے ایک بار پھر نیٹو میں مالی ذمہ داریوں کی غیر مساوی تقسیم پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ امریکا اتحاد پر سب سے زیادہ خرچ کرنے کے باوجود اس سے متناسب فوائد حاصل نہیں کر رہا۔ ان کا بیان مستقبل میں نیٹو کے مالی ڈھانچے اور رکن ممالک کے دفاعی اخراجات سے متعلق بحث کو مزید تقویت دے سکتا ہے۔