Home sticky post 5 افغانستان سے کشیدگی میں دہشت گردی بڑھنے کا خطرہ ہے، حل سیاسی طور پر نکالنا چاہیے،بانی پی ٹی آئی

افغانستان سے کشیدگی میں دہشت گردی بڑھنے کا خطرہ ہے، حل سیاسی طور پر نکالنا چاہیے،بانی پی ٹی آئی

Share
Share

راولپنڈی :بانی تحریک انصاف عمران خان نے کہا ہے کہ افغانستان سے کشیدگی کے نتیجے میں دہشت گردی بڑھنے کا خطرہ ہے، دہشت گردی کے خاتمے کا حل سیاسی طور پر نکالنا چاہیے۔

اڈیالہ جیل راولپنڈی میں توشہ خانہ ٹو کیس کی سماعت کے دوران بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقات کے بعد چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان، سینیٹر علی ظفر اور بیرسٹر سیف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کے پی میں تبدیلی کے بعد بانی سے پہلی ملاقات ہوئی، بانی نے تمام ایم پی ایز کا شکریہ ادا کیا اور خوشی کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا کہ بانی نے علی امین گنڈا پور کو بھی سراہا ہے، کے پی میں بانی پی ٹی آئی کا ووٹ ہے، بانی جس کو نامزد کرینگے وہی وزیر اعلی بنیں گے، بانی نے تمام عہدیداروں کو مبارکباد دی ہے، بانی نے کہا ہے حکومت اسی کا حق ہے جس کا مینڈیٹ ہے، امید ہے حلف کا معاملہ خوش اسلوبی سے حل ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ بانی نے دہشتگردی کا ذکر کیا اور کہا پی ٹی آئی ہر قسم کی دہشت گردی کی مذمت کرتی ہے، اس مسئلے کا حل نکالنا ہے، فوج بھی میری ہے، شہداء بھی ہمارے ہیں، عام عوام کا خون نہیں بہنا چاہیے، دہشت گردی کے خاتمے کا حل سیاسی طور پر نکالنا چاہیے۔

پی ٹی آئی رہنماؤں نے بتایا کہ بانی نے کہا وہ دہشت گردی کے خلاف پالیسیز پر تنقید کرتے ہیں، مریدکے واقعے کی بھی مذمت کی اور کہا کے پی میں مثالی حکومت قائم کرنی ہے۔

بیرسٹر سیف نے بتایا کہ بانی نے ٹی ایل پی کے خلاف تشدد کی مذمت کی، اور کہا ٹی ایل پی کے خلاف تشدد پر احتجاج کیا جائے۔انہوں نے کہا کہ بانی نے کہا ہے ان کی فیملی فوج میں ہے، فوج سے ان کی کوئی دشمنی نہیں، غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنا بند ہونا چاہیے۔

ان کا کہنا تھا کہ بانی نے کہا دہشت گردی کے خلاف پہلے بھی آپریشنز ہوئے ہیں، بانی نے کہا ہے افغانستان پر حملوں کے نتیجے میں دہشت گردی بڑھنے کا خطرہ ہے۔

اس دوران بیرسٹر گوہر علی خان سے سوال کیا گیا کہ آپ کہہ رہے ہیں نیشنل ایکشن پلان کے تحت دہشتگردی سے نمٹنا، ڈی جی آئی ایس پی آر بھی یہی کہہ رہے ہیں تو مسئلہ کہاں ہے؟۔

بیرسٹر گوہر خان نے جواب دیا کہ لوگ نیشنل ایکشن پلان کو پڑھے بغیر کنفیوژن پیدا کررہے ہیں، ہم نے جنوری میں آل پارٹیز کانفرنس کی اسکی پریز ریلیز میں نیشنل ایکشن پلان اور ٹارگیٹڈ آپریشنز کا ذکر ہے۔

صحافی نے سوال کیا کہ ڈی جی آئی ایس پی آر نے ریوائزڈ نیشنل ایکشن پلان سامنے رکھا آپ اسے اتفاق کرتے ہیں؟، بیرسٹر گوہر خان نے جواب دیا کہ میں نے وہ نکات دیکھے نہیں نہ پڑھے ہیں لیکن ہماری پریس ریلیز میں نیشنل ایکشن پلان کا ذکر ضرور ہے، کنفیوژن پیدا نہیں کرنا چاہیئے، حکمت عملی میں فرق ہے، بانی صرف یہ کہہ رہے ہیں صرف ملٹری آپریشن مسائل کا حل نہیں۔

صحافی نے سوال کیا کہ نیشنل ایکشن پلان پر تو بانی پی ٹی آئی نے بھی دستخط کئے ہیں، انہوں نے جواب دیا کہ ہم انتشار نہیں چاہتے، بانی نے کہا جنرل بوجوہ سے بھی ملک کی خاطر بات چیت کی تھی۔ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کو افغان وزیر خارجہ کے دورہ بھارت کے بارے میں بتایا گیا ہے۔

Share
Related Articles

یورپی یونین کا لبنان کی مسلح افواج کے لیے 100 ملین یورو اضافی امداد کا اعلان

برسلز: لبنانی ریاستی اداروں کو مضبوط بنانے کی کوشش یورپی یونین نے...

عوام کی خدمت ہماری سیاست کا مقصد ہے، امیدوں پر پورا اتریں گے: آصفہ بھٹو زرداری

نگر میں جلسہ عام سے خطاب، نوجوانوں کے روشن مستقبل کا عزم...

جنگی اختیارات کی ووٹنگ پر صدر ٹرمپ برہم، ریپبلکن ارکان کو تنقید کا نشانہ بنا دیا

واشنگٹن: ایوانِ نمائندگان کی ووٹنگ پر صدر ٹرمپ کا ردعمل امریکی صدر...

اسرائیل کے حوالے سے ایران کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی، ایرانی سپریم لیڈر

تہران: دشمن ایران کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے ایرانی...