اسلام آباد:پاکستان نے خواتین کی صحت کے شعبے میں ایک تاریخی پیش رفت کرتے ہوئے 150 ممالک کی صف میں شامل ہو کر 13 ملین بچیوں کوسروائیکل کینسر( رحم کے کینسر )سے بچانے کے لیے عالمی ادارۂ صحت (WHO) سے منظور شدہ ویکسین متعارف کرا دی۔ یہ ملک کی پہلی ہیومن پیپیلوما وائرس (HPV) ویکسینیشن مہم ہے جو وفاقی ڈائریکٹوریٹ آف امیونائزیشن (FDI)، ڈبلیو ایچ او، یونیسیف اور گاوی (GAVI) کے اشتراک سے شروع کی گئی۔
وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال نے مہم کا افتتاح کیا۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ 9 سے 14 سال کی بچیوں کے لیے یہ ویکسین مستقبل کی صحت کی ضمانت ہے۔ والدین سے اپیل ہے کہ اپنی بچیوں کو یہ محفوظ اور مؤثر ویکسین ضرور لگوائیں، منفی پروپیگنڈے کا شکار نہ ہوں۔
ڈبلیو ایچ او کے نمائندہ برائے پاکستان ڈاکٹر داپنگ لو نے بتایا کہ پاکستان میں ہر روز 8 خواتین رحم کے کینسر سے جاں بحق ہوتی ہیں۔ “HPV ویکسین ایک محفوظ، سائنسی بنیادوں پر تیار اور جان بچانے والی ویکسین ہے جو 150 سے زائد ممالک بشمول مسلم ممالک میں کامیابی سے استعمال ہو رہی ہے۔ یہ ویکسین پاکستان کی بچیوں اور آنے والی نسلوں کے لیے صحت مند مستقبل کی ضمانت ہے۔
پہلے مرحلے میں یہ مہم پنجاب، سندھ، آزاد جموں و کشمیر اور اسلام آباد میں چلائی جائے گی، جس کے دوران 49 ہزار سے زائد تربیت یافتہ ہیلتھ ورکرز بچیوں کو ویکسین لگائیں گے۔ ہدف ہے کہ 13 ملین بچیوں میں سے کم از کم 90 فیصد کو ویکسین فراہم کی جائے۔ آئندہ برس یہ ویکسین خیبرپختونخوا (2026)، بلوچستان اور گلگت بلتستان (2027) میں متعارف کرا دی جائے گی۔
یونیسیف پاکستان کی نمائندہ پرنیلے آئرن سائیڈ نے کہاکہ یہ ایک تاریخی دن ہے۔ آج کی بچیوں کو ویکسین لگا کر ہم کل کی خواتین کو سروائیکل کینسر( رحم کے کینسر )جیسے جان لیوا مگر قابلِ تدارک مرض سے بچا سکتے ہیں۔
گاوی کے چیف کنٹری ڈلیوری آفیسر تھابانی مافوسا نے کہا کہ ہر دو منٹ بعد دنیا میں ایک عورت رحم کے کینسر سے جان کی بازی ہار جاتی ہے۔ اس مہم کے ذریعے پاکستان کی لاکھوں بچیاں اپنے خوابوں کو پورا کرنے کے قابل ہوں گی۔
HPV ویکسین مہم کے دوران ویکسین مفت فراہم کی جائے گی اور اسے مقررہ مراکز، اسکولوں، موبائل اور اسپیشل ٹیموں کے ذریعے دور دراز اور نظرانداز شدہ آبادیوں تک پہنچایا جائے گا۔