تہران: ایرانی وزیر خارجہ کا اسرائیل کو سخت پیغام
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل لبنان کے دارالحکومت بیروت پر حملہ کرتا ہے تو ایران اس کا فیصلہ کن جواب دے گا۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں کشیدگی میں اضافے کے ممکنہ نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔
لبنانی ٹی وی چینل کو انٹرویو
لبنانی نشریاتی ادارے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عباس عراقچی نے مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال، ایران اور امریکا کے تعلقات، اور خطے میں جاری سفارتی کوششوں پر تفصیلی گفتگو کی۔
انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنی قومی سلامتی اور علاقائی اتحادیوں کے تحفظ کے حوالے سے سنجیدہ مؤقف رکھتا ہے۔
امریکا کے ساتھ رابطے منقطع نہیں ہوئے
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا کے ساتھ رابطوں کا سلسلہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔
ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان مختلف تجاویز اور سفارتی پیغامات کا تبادلہ جاری ہے اور ایران اس وقت امریکی تجاویز کے متن کا جائزہ لے رہا ہے۔
تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ حالیہ مذاکرات میں کوئی نمایاں پیش رفت سامنے نہیں آئی۔
مذاکرات کو فوجی کارروائی پر ترجیح
عباس عراقچی نے کہا کہ ایران اختلافات کے حل کے لیے فوجی طاقت کے بجائے سفارت کاری اور مذاکرات کو ترجیح دیتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ مسائل کا پائیدار حل صرف بات چیت اور سیاسی ذرائع سے ہی ممکن ہے، جبکہ جنگ اور تصادم خطے کے امن و استحکام کو مزید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی
ایرانی وزیر خارجہ کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی صورتحال بدستور حساس ہے اور مختلف علاقائی تنازعات عالمی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایران، اسرائیل اور لبنان سے متعلق پیش رفت خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔
اہم نکات
- ایران نے بیروت پر ممکنہ اسرائیلی حملے کے خلاف سخت ردعمل کی وارننگ دی۔
- وزیر خارجہ عباس عراقچی نے فیصلہ کن جواب دینے کا عندیہ دیا۔
- امریکا اور ایران کے درمیان رابطے مکمل طور پر منقطع نہیں ہوئے۔
- ایرانی حکام امریکی تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں۔
- مذاکرات میں تاحال کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہوئی۔
- ایران نے فوجی کارروائی کے بجائے سفارت کاری اور مذاکرات کو ترجیح دینے کا اعادہ کیا۔
نتیجہ
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران ایک جانب علاقائی سلامتی کے معاملات پر سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے، جبکہ دوسری جانب امریکا سمیت دیگر فریقوں کے ساتھ سفارتی رابطے بھی برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال میں مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوششیں خطے کے امن و استحکام کے لیے انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہیں۔