Home sticky post 3 بیروت پر حملے کی صورت میں ایران فیصلہ کن جواب دے گا، عباس عراقچی

بیروت پر حملے کی صورت میں ایران فیصلہ کن جواب دے گا، عباس عراقچی

Share
Share

تہران: ایرانی وزیر خارجہ کا اسرائیل کو سخت پیغام

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے خبردار کیا ہے کہ اگر اسرائیل لبنان کے دارالحکومت بیروت پر حملہ کرتا ہے تو ایران اس کا فیصلہ کن جواب دے گا۔ انہوں نے کہا کہ خطے میں کشیدگی میں اضافے کے ممکنہ نتائج سنگین ہو سکتے ہیں۔

لبنانی ٹی وی چینل کو انٹرویو

لبنانی نشریاتی ادارے کو دیے گئے ایک انٹرویو میں عباس عراقچی نے مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال، ایران اور امریکا کے تعلقات، اور خطے میں جاری سفارتی کوششوں پر تفصیلی گفتگو کی۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنی قومی سلامتی اور علاقائی اتحادیوں کے تحفظ کے حوالے سے سنجیدہ مؤقف رکھتا ہے۔

امریکا کے ساتھ رابطے منقطع نہیں ہوئے

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ امریکا کے ساتھ رابطوں کا سلسلہ مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔

ان کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان مختلف تجاویز اور سفارتی پیغامات کا تبادلہ جاری ہے اور ایران اس وقت امریکی تجاویز کے متن کا جائزہ لے رہا ہے۔

تاہم انہوں نے اعتراف کیا کہ حالیہ مذاکرات میں کوئی نمایاں پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

مذاکرات کو فوجی کارروائی پر ترجیح

عباس عراقچی نے کہا کہ ایران اختلافات کے حل کے لیے فوجی طاقت کے بجائے سفارت کاری اور مذاکرات کو ترجیح دیتا ہے۔

انہوں نے زور دیا کہ مسائل کا پائیدار حل صرف بات چیت اور سیاسی ذرائع سے ہی ممکن ہے، جبکہ جنگ اور تصادم خطے کے امن و استحکام کو مزید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی

ایرانی وزیر خارجہ کا بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں سکیورٹی صورتحال بدستور حساس ہے اور مختلف علاقائی تنازعات عالمی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔

ماہرین کے مطابق ایران، اسرائیل اور لبنان سے متعلق پیش رفت خطے کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔

اہم نکات

  • ایران نے بیروت پر ممکنہ اسرائیلی حملے کے خلاف سخت ردعمل کی وارننگ دی۔
  • وزیر خارجہ عباس عراقچی نے فیصلہ کن جواب دینے کا عندیہ دیا۔
  • امریکا اور ایران کے درمیان رابطے مکمل طور پر منقطع نہیں ہوئے۔
  • ایرانی حکام امریکی تجاویز کا جائزہ لے رہے ہیں۔
  • مذاکرات میں تاحال کوئی بڑی پیش رفت نہیں ہوئی۔
  • ایران نے فوجی کارروائی کے بجائے سفارت کاری اور مذاکرات کو ترجیح دینے کا اعادہ کیا۔

نتیجہ

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران ایک جانب علاقائی سلامتی کے معاملات پر سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے، جبکہ دوسری جانب امریکا سمیت دیگر فریقوں کے ساتھ سفارتی رابطے بھی برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال میں مذاکرات اور سفارت کاری کے ذریعے کشیدگی کم کرنے کی کوششیں خطے کے امن و استحکام کے لیے انتہائی اہم سمجھی جا رہی ہیں۔

Share
Related Articles

امریکی سینیٹر لنزے گراہم 71 برس کی عمر میں انتقال کر گئے

ریپبلکن رہنما اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی اتحادی طویل سیاسی خدمات...

یورپ میں شدید گرمی کی لہر، جنگلات میں ہولناک آتشزدگی، ہزاروں افراد محفوظ مقامات پر منتقل

فرانس، اسپین، پرتگال اور یونان میں 42 ہزار ایکڑ سے زائد رقبہ...

لنڈا نوسکووا ومبلڈن اوپن خواتین سنگلز کی نئی چیمپئن بن گئیں

ہم وطن کیرولینا موچووا کو شکست دے کر کیریئر کا پہلا گرینڈ...

او آئی سی وزارتی کانفرنس برائے خواتین، تکنیکی سیشنز جاری، مرکزی اجلاس کل ہوگا

57 رکن ممالک کے 190 مندوبین کی شرکت، خواتین کے حقوق، بااختیار...