تہران: دشمن ایران کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے
ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ نے کہا ہے کہ ایران کے مخالفین میدانِ جنگ میں اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے ہیں اور اب عوامی سطح پر مایوسی اور اندرونی تقسیم پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ ایرانی قوم کو موجودہ چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے متحد اور ہوشیار رہنا ہوگا۔
دشمن کو میدانِ جنگ میں ناکامی کا سامنا
اپنے بیان میں ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ مخالف قوتیں میدانِ جنگ میں مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکیں، جس کے بعد انہوں نے اپنی حکمت عملی تبدیل کر دی ہے۔
ان کے مطابق اب دشمن کا مقصد عوام کے حوصلے کمزور کرنا اور معاشرے میں بے یقینی پیدا کرنا ہے تاکہ ایران کی داخلی طاقت کو متاثر کیا جا سکے۔
مایوسی پھیلانے کو دشمن کی مدد قرار دیا
مجتبیٰ خامنہ نے کہا کہ عوام میں مایوسی، ناامیدی اور بداعتمادی پیدا کرنے والی سرگرمیاں دراصل دشمن کے مقاصد کو تقویت دے سکتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قوم کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جو ملکی اتحاد اور استحکام کو نقصان پہنچائیں۔
ایران کی ترقی روکنا ممکن نہیں
ایرانی سپریم لیڈر کے مطابق بڑی عالمی طاقتیں ایران کی ترقی، خودمختاری اور قومی اہداف کے حصول میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کرتی رہی ہیں، تاہم وہ اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران مختلف شعبوں میں ترقی کے سفر کو جاری رکھے گا اور بیرونی دباؤ اس کی پیش رفت کو نہیں روک سکتا۔
ہائبرڈ جنگ کا دعویٰ
تحریری پیغام میں مجتبیٰ خامنہ نے کہا کہ دشمن روایتی طریقوں میں ناکامی کے بعد اب ہائبرڈ جنگی حکمت عملی پر توجہ دے رہا ہے۔
ان کے مطابق ایران نے ماضی میں مختلف خفیہ سازشوں اور دباؤ کا مقابلہ کیا ہے اور آئندہ بھی قومی مفادات کے تحفظ کے لیے اقدامات جاری رکھے گا۔
اسرائیل کے بارے میں ایران کا مؤقف برقرار
ایرانی سپریم لیڈر نے واضح کیا کہ اسرائیل کے حوالے سے ایران کی پالیسی اور مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی۔
انہوں نے اپنے بیان میں اسرائیل اور امریکا سے متعلق سخت مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ایران اپنے بنیادی اصولوں اور خارجہ پالیسی کے مؤقف پر قائم رہے گا۔
اہم نکات
- ایرانی سپریم لیڈر نے کہا کہ دشمن میدانِ جنگ میں اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا۔
- عوام میں مایوسی اور تقسیم پیدا کرنے کی کوششوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا۔
- ایران کی ترقی اور خودمختاری کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
- ہائبرڈ جنگ اور بیرونی دباؤ کے حوالے سے خدشات کا ذکر کیا گیا۔
- اسرائیل کے بارے میں ایران کے مؤقف میں تبدیلی نہ آنے کا اعلان کیا گیا۔
نتیجہ
ایرانی سپریم لیڈر کے بیان سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران اپنی داخلی یکجہتی، قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کے بنیادی مؤقف پر قائم رہنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ خطے میں جاری سیاسی اور سکیورٹی صورتحال کے تناظر میں ایران کی قیادت عوامی اتحاد، سفارتی استحکام اور قومی خودمختاری کو اہم ترجیح قرار دے رہی ہے۔