Home sticky post 4 جنگی اختیارات کی ووٹنگ پر صدر ٹرمپ برہم، ریپبلکن ارکان کو تنقید کا نشانہ بنا دیا

جنگی اختیارات کی ووٹنگ پر صدر ٹرمپ برہم، ریپبلکن ارکان کو تنقید کا نشانہ بنا دیا

Share
Share

واشنگٹن: ایوانِ نمائندگان کی ووٹنگ پر صدر ٹرمپ کا ردعمل

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایوانِ نمائندگان میں جنگی اختیارات سے متعلق ہونے والی ووٹنگ پر سخت ردعمل دیتے ہوئے ان ریپبلکن ارکان کو تنقید کا نشانہ بنایا جنہوں نے ان کے مؤقف کے خلاف ووٹ دیا۔

صدر ٹرمپ نے اس اقدام کو غیر ذمہ دارانہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ بعض ارکان نے قومی مفاد کے بجائے سیاسی مقاصد کو ترجیح دی۔

ریپبلکن ارکان کے اقدام پر تنقید

اپنے بیان میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ ان کے خلاف ووٹ دینے والے چند ریپبلکن ارکان کا طرزِ عمل غیر محبِ وطن اور سیاسی نوعیت کا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ بعض سیاست دان عوامی توجہ حاصل کرنے اور سیاسی فائدے کے لیے ایسے اقدامات کر رہے ہیں جن کا قومی مفاد سے کوئی تعلق نہیں۔

ڈیموکریٹس پر بھی تنقید

صدر ٹرمپ نے ڈیموکریٹک پارٹی کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کے سیاسی مخالفین ملک کی بہتری کے بجائے ان کی سیاسی ناکامی دیکھنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔

ان کے مطابق بعض حلقے اہم قومی معاملات کو بھی سیاسی اختلافات کی نظر کر دیتے ہیں۔

ایران سے متعلق مذاکرات کا حوالہ

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ ووٹنگ ایسے وقت میں ہوئی جب ایران کے ساتھ جاری مذاکرات ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکے تھے۔

انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ مذاکراتی عمل کے دوران اس نوعیت کی سیاسی کارروائیاں سفارتی کوششوں پر منفی اثر ڈال سکتی ہیں۔

جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد

صدر ٹرمپ کے مطابق ایوانِ نمائندگان نے ان کے جنگی اختیارات محدود کرنے کے حق میں ووٹ دیا، تاہم انہوں نے اس اقدام کو غیر ضروری اور بے معنی قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ یہ ووٹنگ عملی نتائج کے بجائے سیاسی پیغام رسانی کی کوشش معلوم ہوتی ہے۔

سیاسی مقاصد کے تحت ووٹنگ کا الزام

امریکی صدر نے الزام عائد کیا کہ ان کے خلاف ووٹ دینے والے بعض ارکان سستی شہرت اور سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

ان کے مطابق اس قسم کے اقدامات قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی جیسے حساس معاملات کو سیاسی تنازعات کا حصہ بنا دیتے ہیں۔

اہم نکات

  • صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگی اختیارات سے متعلق ووٹنگ پر ناراضی کا اظہار کیا۔
  • بعض ریپبلکن ارکان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔
  • ڈیموکریٹس پر سیاسی مخالفت کو قومی مفاد پر ترجیح دینے کا الزام لگایا گیا۔
  • ایران سے متعلق جاری مذاکرات کا حوالہ دیا گیا۔
  • جنگی اختیارات محدود کرنے کی قرارداد کو غیر ضروری قرار دیا گیا۔
  • مخالف ووٹ دینے والے ارکان پر سیاسی مقاصد کے تحت کارروائی کا الزام عائد کیا گیا۔

نتیجہ

جنگی اختیارات سے متعلق ایوانِ نمائندگان کی ووٹنگ نے امریکی سیاست میں ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت ردعمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ قومی سلامتی، خارجہ پالیسی اور ایران سے متعلق مذاکرات جیسے معاملات آنے والے دنوں میں بھی سیاسی توجہ کا مرکز رہ سکتے ہیں۔ اس پیش رفت کے اثرات امریکی سیاسی ماحول اور حکومتی پالیسیوں پر نمایاں ہو سکتے ہیں۔

Share
Related Articles

یورپی یونین کا لبنان کی مسلح افواج کے لیے 100 ملین یورو اضافی امداد کا اعلان

برسلز: لبنانی ریاستی اداروں کو مضبوط بنانے کی کوشش یورپی یونین نے...

عوام کی خدمت ہماری سیاست کا مقصد ہے، امیدوں پر پورا اتریں گے: آصفہ بھٹو زرداری

نگر میں جلسہ عام سے خطاب، نوجوانوں کے روشن مستقبل کا عزم...

اسرائیل کے حوالے سے ایران کے مؤقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی، ایرانی سپریم لیڈر

تہران: دشمن ایران کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہا ہے ایرانی...

بیروت پر حملے کی صورت میں ایران فیصلہ کن جواب دے گا، عباس عراقچی

تہران: ایرانی وزیر خارجہ کا اسرائیل کو سخت پیغام ایران کے وزیر...