واشنگٹن:امریکی کانگریس کے دو اراکین جو ولسن اور آگسٹ پفلوگر نے سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو کو مشترکہ خط میں زور دیا ہے کہ پاکستان کی فوجی قیادت سے رابطہ کریں اور سابق وزیراعظم عمران خان کی رہائی ممکن بنائیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق امریکا کانگریس کے دونوں اراکین نے 25 فروری کو سیکریٹری اسٹیٹ مارکو روبیو کے نام خط تحریر کیا اور کہا کہ عمران خان کی قید سیاسی بنیاد پر عائد الزام کے نتیجے میں عمل میں آئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کی 2022 میں تحریک عدم اعتماد کے ذریعے برطرفی پاکستان میں جمہوریت کی معطلی کے مترادف ہے اور اس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں کشیدگی پیدا ہوئی۔
جوولسن نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر بیان میں کہا کہ خوشی ہے کہ ری پبلکن اسٹڈی چیئرمین آگسٹ پفلوگر کے ساتھ مل کر سیکریٹری روبیو پر زور دیا ہے کہ عمران خان کی رہائی اور پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کے لیے کام کریں۔
انہوں نے مزید لکھا کہ امریکا اور پاکستان کے تعلقات اس وقت مضبوط رہتے ہیں جب ان کی بنیاد آزادی پر ہوتی ہے۔
امریکی سیکریٹری اسٹیٹ روبیو کو خط لکھنے والے جو ولسن ایوان کی خارجہ امور اور آرمڈ سروسز کمیٹیوں کے رکن اور صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی اتحادی ہیں، اسی طرح آگسٹ پفلوگر ری پبلکن اسٹیڈی کمیٹی کے چیئرمین ہیں۔
دونوں اراکین نے عمران خان کی قید پر اور اس کے پاک-امریکا تعلقات پر پڑنے والے اثرات پر تشویش کا اظہار کیا۔
خط میں لکھا گیا ہے کہ عمران خان کو پاکستان میں بڑے پیمانے پر مقبولیت حاصل ہے اور ان کی رہائی سے مشترکہ آزادی کی روایات کی بنیاد پر پاک-امریکا تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز ہوگا۔
عمران خان کو درپیش حالات کا ٹرمپ سے تقابل کرتےہوئے انہوں نے کہا کہ عمران خان بھی ٹرمپ کی طرح عدالتی زیادتی کا شکار ہیں۔
اراکین کانگریس نے سیکریٹری روبیو سےمزید کہا کہ وہ جمہوریت کی بحالی، انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی، آزاد صحافت، اجتماع کی آزادی اور آزادی اظہار رائے کے لیے پاکستان کے ساتھ کام کریں۔
انہوں نے زور دیا کہ عمران خان کے ساتھ دوسرے سیاست دانوں کی طرح سلوک ہونا چاہیے انہیں سیاسی نکتہ نظر کی وجہ سے قید نہیں ہونا چاہیے۔
جو وولسن اس سے قبل بھی ایکس پر بیان میں عمران خان کی رہائی کا مطالبہ اور روبیو کو لکھے گئے خط کی کابی بھی شیئر کرچکے ہیں اور امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات آزادی کے احترام کے ذریعے مضبوط بنائے جاسکتے ہیں۔
خط کے آخر میں کہا گیا ہے کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات عمران خان کی رہائی سے جڑے ہوئے ہیں اور دونوں اراکین کانگریس نے سیکریٹری اسٹیٹ روبیو پر زور دیا ہے کہ وہ اس حوالے سے فیصلہ کن اقدامات کریں۔