ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملے کے بعد مختلف ممالک کی جانب سے رد عمل سامنے آگیا ہے ۔
نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا نے ایران کے خلاف امریکی حملے پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے معاملے کو سفارتکاری کے ذریعے حل کرنے کی ضرور ت پر زور دیا ہے ۔
نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونسٹن پیٹرز نے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری فوجی کارروائیاں انتہائی تشویش ناک ہیں، مزید بگاڑ سے بچنا بہت ضروری ہے۔انہوں نے کہا نیوزی لینڈ پُرزور انداز میں سفارتی کوششوں کی حمایت کرتا ہے، اور تمام فریقین سے مذاکرات کی طرف لوٹنے کی اپیل کرتا ہے۔انہوں نے مزید کہا سفارت کاری ہی پائیدار حل فراہم کر سکتی ہے، نہ کہ مزید فوجی کارروائی ۔
آسٹریلیا کے وزیر خارجہ نے بھی کہا کہ ہم واضح طور پر کہتے ہیں مشرق وسطیٰ کی سکیورٹی صورتحال نہایت غیر مستحکم ہے، ہم مسلسل کشیدگی میں کمی، مکالمے اور سفارت کاری پر زور دیتے ہیں۔
کیوبا کے صدر میگوئل دیاز کانیل نے امریکی بمباری کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی سنگین خلاف ورزی ہے۔چلی کے صدر نے امریکی اقدام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے کہا کہ طاقت رکھنا آپ کو اس کے استعمال کی اجازت نہیں دیتا جب وہ قوانین کی خلاف ورزی ہو، جو ہم نے بطور انسانیت خود بنائے ہیں، چاہے آپ امریکا ہی کیوں نہ ہوں ۔
میکسیکو کی وزارتِ خارجہ نےسوشل ویب پر لکھا کہ ہماری خارجہ پالیسی کے آئینی اصولوں اور ملک کے پُرامن مؤقف کے مطابق، ہم خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کی اپیل دہراتے ہیں، ریاستوں کے درمیان پرامن بقائے باہمی کی بحالی ہماری اعلیٰ ترین ترجیح ہے ۔وینزویلا کے وزیرِ خارجہ ایوان گل نے کہا کہ ایران پر امریکی بمباری کی سخت مذمت کرتے ہیں ۔انہوں نے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا۔