اسلام آباد: مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے پیش نظر وزیراعظم Shehbaz Sharif نے وفاق اور صوبوں کو ہدایت دی ہے کہ وہ تمام ایسے ترقیاتی منصوبے عارضی طور پر روک دیں جنہیں مؤخر کیا جا سکتا ہے، تاکہ دستیاب وسائل کو مؤثر انداز میں استعمال کیا جا سکے۔
وزیراعظم کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں Syed Asim Munir، Bilawal Bhutto Zardari، چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کی قیادت سمیت وفاقی کابینہ کے ارکان نے شرکت کی۔
اجلاس کے دوران وزیراعظم نے خطے میں جاری جنگی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان مسلسل امن کے قیام کے لیے سفارتی کوششیں کر رہا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ نائب وزیراعظم Ishaq Dar اور عسکری قیادت اس حوالے سے اہم کردار ادا کر رہے ہیں، جبکہ آبنائے ہرمز کے ذریعے تیل کی ترسیل کو یقینی بنانے کے لیے بھی اقدامات کیے گئے ہیں۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عالمی کشیدگی کے اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہو رہے ہیں اور ملک کو توانائی سمیت مختلف شعبوں میں چیلنجز کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے پیشگی اقدامات کے تحت مختلف شعبوں میں بچت اور کفایت شعاری کی پالیسی اپنائی ہے، جس کے نتیجے میں کئی اخراجات کم کیے گئے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت نے ترقیاتی پروگرام میں نمایاں کٹوتی کی ہے اور قومی وسائل کو زیادہ مؤثر طریقے سے استعمال کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق مشکل حالات میں اشرافیہ کو قربانی دینا ہوگی جبکہ کمزور طبقے کو زیادہ سے زیادہ ریلیف فراہم کیا جائے گا۔
اجلاس میں توانائی کے ممکنہ بحران، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں اور کفایت شعاری اقدامات پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق وفاق نے صوبوں سے پیٹرولیم سبسڈی میں حصہ ڈالنے کی درخواست کی ہے جبکہ قیمتوں کے بوجھ سے متعلق مختلف تجاویز زیر غور آئیں۔
اس موقع پر وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اپنے حالیہ دورہ چین اور ایران-امریکا مذاکرات کے حوالے سے پاکستان کی سفارتی کوششوں پر بھی بریفنگ دی۔
وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سیاسی استحکام کے ذریعے ہی معاشی استحکام ممکن ہے اور حکومت کی اولین ترجیح مہنگائی پر قابو پانا اور عوام، خصوصاً کمزور طبقات کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔